سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 273 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 273

273 نے اس تعلق میں بھی اس دعا کا ذ کر کیا تھا۔چنانچہ میں نے تحقیق کروائی تو پتا چلا کہ یہی دعا اس طائف کے موقع پر بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کی تھی یعنی اے خدا یہ جانتے نہیں ہیں اس لئے ان کو معاف فرما، اس لئے درگز رفر مالیکن میری التجا یہ ہے کہ احد قومی میری قوم کو ہدایت دے دے، ہلاک نہ کر۔پس ایسے غم کی حالت میں جبکہ انسان کے دل کی کیفیت پر نظر ڈال کر اُس کی خاطر خدا غضبناک ہو رہا ہو۔اُس وقت بندے کا رحم، بندے کے عفو کا سلوک اللہ تعالیٰ کے غضب کو رحمت میں تبدیل فرما دیتا ہے۔اُس وقت جو دعا اٹھتی ہے وہ اُس قوم کے لئے رحمت بن جایا کرتی ہے۔پس نصیحت اس جذبے سے کریں کہ جس کے لئے آپ نصیحت کرتے ہیں اگر وہ نہیں سنتا تو آپ کو دکھ محسوس ہو، آپ کا دل غم سے بھر جائے۔پس اس موقع کے لئے قرآن کریم کی وہ آیت سامنے آکھڑی ہوتی ہے۔وَاسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلوة که مدد مانگو صبر کے ساتھ اور صلوۃ کے ساتھ۔پس آپ نے اگر نصیحتیں کرنی ہیں اور نصیحتوں کے ذریعے دنیا میں ایک عوض انقلاب بر پا کرنا ہے۔تو پہلی نصیحت تو یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کرتے ہوئے رحمت کے ساتھ نصیحت کریں جب بھی نصیحت میں غصہ شامل ہو جایا کرے اپنی نصیحت تھوک دیا کریں کیونکہ وہ نصیحت زہریلی نصیحت ہے۔کوئی اثر نہیں دکھائے گی۔اُس سے سوسائٹی اور بھی گندی ہو جائے گی یہ ایسی نصیحت ہوگی جیسے کسی کو کہا جائے او چل چھوکری اب حیا کر۔بے حیاؤں کی طرح پھر رہی ہے۔دو پٹہ تو سر پر رکھ، ایک یہ کہنے کا انداز ہے اور ایک کہنے کا یہ انداز ہے کہ کسی ایسی بچی کی حالت پر انسان کا دل کڑھے اور اُس میں رحم کا جذ بہ پیدا ہو، اُسے سلیقے اور پیار کے ساتھ سمجھایا جائے کہ بی بی یہ اچھی چیز ہے کہ انسان اپنے سر کو ڈھانپ کر رہے یہ ہمارے معاشرے کی اچھی خوبی ہے۔ان کی حفاظت کرو۔" خطبات طاہر جلد 12 صفحہ 311-318) دنیا بھر کے جماعتی وذیلی تنظیموں کے اجتماعات پر انصار کو قیمتی نصائح (خطبہ جمعہ 30 اپریل 1993ء) " آج خدا کے فضل کے ساتھ دنیا کی بعض جماعتوں میں یا اجتماعات منعقد ہورہے ہیں یا مجالس شوری اور ایک مجلس شوری کل بھی ہوگی۔اس سلسلہ میں مجھے متعلقہ جماعتوں کی طرف سے خصوصیت سے یہ پیغام ملا ہے کہ اگر آج کے جمعہ میں ہمارا ذکر کرتے ہوئے کچھ نصائح ہو جا ئیں تو ہم ممنون ہوں گے۔ان میں سے ایک تو صوبہ سرحد ہے جس کا سب سے پہلے پیغام ملا تھا پھر یوگنڈا ہے۔ان دونوں جگہوں میں