سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 268 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 268

268 اصلاحی کمیٹیوں میں تینوں تنظیموں کو بیک وقت مل کر کوشش کرنی چاہئے (خطبہ جمعہ 1 مئی 1992 ء) " تربیت کا جہاد بھی اور تبلیغ کا جہاد بھی اور تبلیغ کے جہاد کا معیار براہ راست تربیت کے جہاد کے معیار سے متعلق ہے۔جتنا تربیت کا جہاد بلند معیار کا ہو گا اتنا ہی تبلیغ کا معیار از خود بلند ہوتا چلا جائے گا اس لئے ہر ملک میں نظام جماعت کی طرف سے اور طرز کی اصلاحی کمیٹیاں بنی چاہئیں۔یعنی اس بات کا انتظار کرنے والی نہیں کہ جیسے مکڑی جالے میں بیٹھ کر انتظار کرتی ہے کہ کوئی بے وقوف مکھی پھنسے تو اس کے مارنے کا انتظام کیا جائے صرف ایسے بیماروں کو ان کی طرف منتقل نہ کیا جائے کہ جن کے متعلق فیصلہ ہو کہ ان کو اب کیا سزادی جائے بلکہ کمیٹی کا فرض ہو کہ وہ یہ نظر رکھے کہ آثار کے لحاظ سے کس خاندان میں کمزوریاں آ رہی ہیں۔کن کی بچیاں بے پرواہ ہوتی چلی جارہی ہیں، کن کے لڑکے باہر کی طرف رُخ کر چکے ہیں اور جماعت سے محبت کی بجائے ان کا تعلق رفتہ رفتہ کٹ کر غیروں سے محبت کی طرف منتقل ہورہا ہے، ان لوگوں پر نظر رکھ کر ان کو پیار اور محبت سے واپس لانا بہت زیادہ آسان ہے بہ نسبت اس کے کہ جب معاملہ حد سے گزر جائے اور بدیاں کسی میں سرایت کر جائیں اس وقت ان بدیوں کو نوچ کر جسم سے باہر نکال پھینکنا بڑا مشکل ہے۔تو اس آیت پر غور کرتے ہوئے مجھے خیال آیا کہ اب ضروری ہے کہ تمام دنیا میں جماعتیں اس غرض سے اصلاحی کمیٹیاں قائم کریں کہ جو بیماریوں کی پیش بندیاں کرنے والی ہوں۔اس سلسلہ میں ایک مرکزی اصلاحی کمیٹی ہر امیر کے تابع کام کرے گی اور ان کو اختیار ہے اور حق ہے اپنے اپنے دائرے میں مجلس خدام الاحمدیہ مجلس انصار اللہ اور لجنہ اماء اللہ سے وہ پورا پورا فائدہ اُٹھا ئیں۔وہ اگر مناسب سمجھیں تو بعض معاملات کو خدام کی معرفت طے کریں، بعض کو لجنات کی معرفت طے کریں بعض جگہ تینوں کو بیک وقت کوشش کرنی پڑے گی۔ایک خاندان کا معاملہ ہے وہاں نیک اثر ڈالنے کے لئے خدام کو بھی حرکت دینی ہوگی، انصار کو بھی اور لجنات کو بھی اور میں اُمید رکھتا ہوں کہ اگر آپ یہ کام شروع کریں گے تو اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ آپ کے حق میں ضرور پورا ہو گا کہ آپ کی وجہ سے تو میں بچائی جائیں گی۔آپ کی وجہ سے اگر جماعتیں بچائی جائیں گی تو یہی جماعتیں ہیں جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک قوموں کو بچانے کی اہل قرار دی جائیں گی اور جب تک وَاَهْلُهَا مُصْلِحُونَ کا عمل جاری ہے خدا تعالیٰ کے عذاب کی تقدیر نہیں اُترے گی۔" خطبات طاہر جلد 11 صفحہ 310-311)