سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 263
263 ہیں جن کا میں ذمہ دار ہوں ، وہ جگہ میرے پاس کون سی ہیں جہاں میں ان کو رکھوں گا کس سلیقے سے مجھے اُن کو ترتیب دینا چاہئے۔یہ سوچ آتے ہی سب سے پہلے وہ ان کاموں میں مصروف ہو جائے گا۔ایک شخص کو سیکرٹری اشاعت بنایا ہے اس کے بعد ہو سکتا ہے اس کے بعد مہینہ بھران محنتوں میں لگ جائے۔یہ معلوم کرے کہ نہ کوئی ہمارا کمرہ ہے جہاں اسٹاک رکھا جاسکتا ہے، نہ کتابوں کو خوبصورتی کے ساتھ دکھانے کا کوئی انتظام موجود ہے، نہ کوئی اسٹاک رجسٹر ہے جس میں درج ہو یہ کتا بیں کب، کہاں سے آئی تھیں اور ہم نے اُس کی قیمت کسی کو ادا کرنی بھی ہے کہ نہیں ، نہ اُس کو یہ پتا ہو کہ ان کتابوں کو آگے پھر شائع کرنے کا طریق کیا ہے؟ بہت وسیع کام ہے لیکن اکثر سیکرٹری اشاعت بالکل غافل ہیں اُن کو علم ہی کوئی نہیں اور نہ امراء ان کو اس طرح بلا کر جواب طلبی کرتے ہیں، نہ اُن سے وہ پوچھتے ہیں، اس لحاظ سے امیر بھی اپنی امانت کا حق ادا نہیں کرتے۔میں نے ایک مثال جو رکھی ہے اس کو اور زیادہ آگے بڑھا کر دکھاتا ہوں پھر آپ کو پتا چلے گا کہ کتنے کام ہیں جو جماعت میں ہونے والے ہیں اور ایک ایک کام کو جب آپ نظر کے سامنے رکھتے ہیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ کتنی بڑی ذمہ داری ہے دنیا میں ایسی جماعت سے تعلق رکھنا جسے قرآن کریم میں اخَرِيْنَ (الجمعہ: 4) قرار دیا جسے حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام کو تمام دنیا میں دوسرے ادیان پر غالب کرنا ہے۔یہ کوئی معمولی ذمہ داری نہیں ہے۔یہی وہ مضمون ہے جس کے پیش نظر خدا تعالیٰ نے سارے مسلمانوں کو بحیثیت ایک جماعت کے خلیفہ قرار دیا ہوا ہے۔" خطبات طاہر جلد 11 صفحہ 843-850) عہدہ امانت ہے اور عہدیدار جب اس امانت کا بوجھ محسوس کرے تو رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا کی دعا کرے خطبہ جمعہ 27 نومبر 1992ء) ہر عہد یدار کو اس خیال سے محنت کرنی چاہئے کہ میری ذمہ داری ہے اور کوئی دن مجھ پر ایسا نہ گزرے کہ میں اس ذمہ داری کے کسی ایک حصے کو ادا نہ کر رہا ہوں۔اس لگن سے جب عہد یدار کام شروع کر دیں تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے کام آسان ہو جاتے ہیں۔ایک دن کا بوجھ ہلکا ہو جائے گا پھر دوسرے دن کا بوجھ ہلکا ہو گا، پھر تیسرے دن کا بوجھ ہلکا ہوگا رات کو جب وہ تہجد کے لئے اٹھے گا تو یہ دعا کرے گا کہ وقفة رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهِ وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وقفت