سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 261 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 261

261 ہیں ، کون سے غافل ہیں اور یہ مضمون کسی کوشش کے بغیر خود بخو دنظروں کے سامنے اس طرح اُبھرتا ہے جیسے کوئی منظر آنکھوں کے سامنے آ جائے اور بغیر کسی خاص کوشش کے اس منظر کے پہلو ، اُن حصوں میں نمایاں ہوتے ہیں جہاں اُن کو ہونا چاہئے۔جب آپ کسی جگہ سیر کرتے ہوئے کسی منظر پر نگاہ ڈالتے ہیں تو دوہی چیزیں ہیں جو آپ کی نظر کو پکڑتی ہیں ورنہ بعض اتنے وسیع مناظر ہیں کہ ممکن نہیں ہے کہ اُس کے ہر حصے پر آپ نظر کو ٹکائیں اور پھر غور کریں کہ یہاں کیا ہے اور وہاں کیا ہے اور وہاں کیا ہے؟ لیکن دو حصے فورا آنکھ پر از خود روشن ہو جاتے ہیں۔ایک حسن کا حصہ ہے اور ایک بد زیبی کا، بدصورتی کا حصہ ہے۔منظر میں جہاں کوئی بدصورتی ہوگی یا وہ ایک دم آنکھوں کے سامنے آئے گی، جہاں کوئی غیر معمولی حسن پایا جائے گا وہ ایک دم آنکھوں کے سامنے آئے گا۔پس جماعتوں کو دیکھتے ہوئے بھی اسی قسم کے تجربے ہوتے ہیں کہ خود بخود جماعت کے حسن بھی کھل کر آنکھوں کے سامنے آ جاتے ہیں اور خود بخود جماعت کی کمزوریاں بھی بڑی واضح طور پر آنکھوں کے سامنے آ جاتی ہیں۔جماعت کی کمزوریوں کا تعلق عہد یدار ان کی امانت سے ہے جن کمزوریوں کی طرف میں توجہ دلانے لگا ہوں۔یہ اکثر جماعتوں میں موجود ہیں اور بہت کم ایسی جماعتیں ہیں جو ان کمزوریوں سے صاف پاک ہیں اور ان کمزوریوں کا تعلق عہد یداروں کی امانت سے ہے۔مثلاً جب میں سفر کرتا ہوں یا کرتا رہا ہوں تو ایک چیز میرے سامنے آتی ہے خصوصیت کے ساتھ کہ جماعت نے اشاعت کے سلسلے میں جو خدمات سرانجام دی ہیں اُن خدمات کو نہ جماعت کے سامنے لانے کی سچی کوشش کی گئی ہے، نہ غیروں کے سامنے لانے کی بچی کوشش کی گئی ہے۔دنیا کی جماعتوں کو شاید یہ علم نہیں کہ گزشتہ آٹھ سال میں جو ہجرت کے آٹھ سال یہاں گزرے ہیں اتنا اس کثرت سے اتنی زبانوں میں لٹریچر شائع ہوا ہے کہ جماعت کے گزشتہ سو سال میں اس کثرت سے دنیا کی زبانوں میں لٹریچر شائع نہیں ہوا۔یہ کوئی نعوذ باللہ گزشتہ سو سال پر فضیلت کے رنگ میں بیان نہیں کر رہا۔لٹریچر کی بنیاد تو وہی ہے جو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے رکھی ہے اور بعد میں آپ کے خلفاء نے رکھی سلسلے کے بزرگوں نے کام کئے لیکن وہ ذرائع مہیا نہیں تھے جن ذرائع کو استعمال کرتے ہوئے ساری دنیا میں مختلف زبانوں میں احمدیت کا پیغام اور قرآن وسنت کا پیغام پہنچایا جا سکتا ہو۔خدا تعالیٰ نے ہجرت کے انعام کے طور پر ہمیں وہ ذرائع مہیا فرمائے اور اس کثرت سے جماعت کا لٹریچر دنیا کی مختلف زبانوں میں طبع ہوا ہے جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے اس کی کوئی نظیر نہیں ملتی بلکہ گزشتہ سو سال میں سارے عالم اسلام کی کوششوں سے اتنا لٹریچر مختلف زبانوں میں شائع نہیں ہوا جتنا خدا کے فضل سے چند سالوں میں جماعت احمدیہ کو شائع کرنے کی توفیق ملی ہے مگر اس لٹریچر کی اشاعت کا کیا فائدہ؟