سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 260 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 260

260 بھی ایسا پہلو نہیں جو اس سے بچ گیا ہو۔چھوٹے سے چھوٹا عہدیدار بھی دراصل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے تابع اپنی زندگی گزارتا ہے جو امین بنایا گیا ہے اور اس لحاظ سے امانت کا حق ادا کرنا ضروری ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ زیادہ سے زیادہ عہدیدار امین بنیں جماعت کو جب میں بعض ہدایتیں دیتا ہوں، نصیحتیں کرتا ہوں تو ان نصیحتوں کو سن کر اُن پر کیسے عمل کیا جاتا ہے یہ عمل کا انداز ہر شخص کی امانت کا آئینہ بن جاتا ہے۔بہت سے امراء ہیں جب وہ اس نصیحت کو سنتے ہیں وہ اُس کو اپنی جماعت میں جاری کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔نصیحت سے مراد نظام جماعت سے تعلق میں جو نصیحتیں ہیں جاری کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور پوری دیانت داری سے وہ چاہتے ہیں کہ اُس ہدایت کا حق ادا ہو جائے بعض ایسے ہیں جو سنتے ہیں اور غفلت کی نظر سے دیکھتے ہیں اور پوری توجہ نہیں کرتے اور بعض ایسے ہیں جو کچھ دیر کے وقت توجہ کرتے ہیں اُس کے بعد چھوڑ دیتے ہیں مختلف حالتوں میں جماعت پائی جاتی ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ اگر ساری جماعت کے تمام عہدیداران اس حد تک امین بن جائیں جس حد تک اللہ تعالیٰ امانت کا تصور ہمارے سامنے پیش فرماتا ہے اور امانت کے مضمون کو قرآن اور احادیث کھول رہے ہیں۔اس حد تک امین بن جائیں جس حد تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاک نمونے سے ہمیں امانت کا مضمون سمجھ آتا ہے تو دنیا میں اس دور میں جماعت احمدیہ کی ترقی سینکڑوں گنا تیز رفتار سے چل سکتی ہے۔وہ انقلاب جو صدیوں دور دکھائی دیتے ہیں وہ ہمیں دروازے پر کھڑے دکھائی دینے لگیں گے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ زیادہ سے زیادہ عہدیدار امین بنیں۔اس پہلو سے امانت کی ذمہ داری بہت بڑی ہے اور اس پہلو سے ہماری امانت در اصل تمام بنی نوع انسان سے تعلق رکھتی ہے۔اگر ہم جماعت کے عہدیداران جن پر کسی پہلو سے بھی کوئی ذمہ داری ڈالی گئی ہے اگر حقیقہ امین بن جائیں۔میں سچ سچ کہتا ہوں کہ وہ انقلاب جو دوسو سال کے بعد دکھائی دے رہا ہے وہ دیکھتے دیکھتے ہماری زندگیوں کے محدود دائروں میں ہی آسکتا ہے۔پس تمام بنی نوع انسان جو اُس روحانی انقلاب سے پہلے مرجاتے ہیں وہ ساری نسلیں جو دنیا میں ضائع ہو جاتی ہیں اُن کی امانت کا گویا ہم نے حق ادا نہ کیا۔پس یہ وہ اہم پہلو ہے جس کو پیش نظر رکھتے ہوئے میں بعض ایسی باتوں کا اعادہ کرتا ہوں جن کو میں بار بار بیان کر چکا ہوں اور میں دوبارہ سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں کہ آپ امانت کا حق ادا کریں۔سفروں کے دوران بہت سے ایسے نمونے دکھائی دیتے ہیں۔میں جماعتوں سے ملتا ہوں دوست وہاں بعض اپنے مہمانوں کو بھی لے کر آتے ہیں، ملاقاتیں ہوتی ہیں تبلیغ کی باتیں ہوتی ہیں دیگر دنیا کے مسائل پر گفتگو ہوتی ہے تو ساتھ ساتھ جماعت کا نقشہ بھی سامنے اُبھرتا رہتا ہے۔ساتھ ساتھ یہ بھی پتا چلتا چلا جاتا ہے کہ کس جماعت میں کون امیر کتناذ مہ دار ہے؟ کون سے عہد یدار اپنے کام کی طرف توجہ کر رہے