سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 259
259 غلطیاں ہیں تو خدا کی پکڑ کے نیچے ہوں اور اُسی سے معافی کا طلب گار ہوں۔درست فیصلے ہیں تو خدا ہی کی خاطر ہیں اس لئے جہاں تک جماعت کے زاویے سے دیکھنے کا تعلق ہے اُس کو خلیفہ وقت پر اعتماد رکھنا چاہئے اور توکل رکھنا چاہئے کہ وہ خدا کی طرف سے اس حد تک ضرور حفاظت یافتہ ہے کہ کوئی ایسی بڑی غلطیاں نہیں کرے گا جنہیں خدا درست نہ فرمادے جن کا جماعت کو نقصان پہنچے کیونکہ اگر ایسا ہو تو پھر خدا تعالیٰ پر بھی اُس کا حرف آتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے جس شخص کو مہلت دی ہوئی ہے اور اپنی حفاظت کے تابع رکھتے ہوئے خدمت کا موقع دیا ہے اُس سے ایسی غلطیاں نہیں ہونے دیتا جو اس کے نظام کو بگاڑ دیں۔پس ایسے وہ وقت ہیں جن کے متعلق حضرت خلیفتہ المسیح الاوّل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے روشنی ڈالی کہ اگر خدانخواستہ ایسا خطرہ ہو تو خدا تعالیٰ جب چاہے واپس بلا سکتا ہے مگر جماعت کو خلافت کی چھتری کے نیچے یہ حفاظت ضرور ہے کہ ایسی غلطیاں جو عارضی یا معمولی نوعیت کی ہوں جن سے نظام کے بگڑنے کا خدشہ نہ ہو ایسی غلطیوں سے اللہ تعالیٰ چاہے تو درگز رفرمائے لیکن ایسی غلطیاں جو نظام کو بگاڑنے کے خطرہ رکھتی ہوں اُن کو یا تو خدا تعالیٰ ضرور اُن کی اصلاح فرمادے گا اور خود سمجھا دے گا اُس شخص کو جس سے غلطی ہوئی اور وہ اپنے غلط فعل کو کالعدم کر دے گا۔یا پھر اللہ تعالیٰ ایسے شخص کے متعلق یہ فیصلہ فرمائے کہ مزید اس امانت کا اہل نہیں رہا تو اسے واپس بلا سکتا ہے مگر جیسا کہ میں نے بیان کیا امارتوں اور دیگر امین داروں کی نگرانی میں میں چونکہ مالک نہیں ہوں یا کوئی بھی خلیفہ مالک نہیں ہے اس لئے اُس کے اختیارات محدود ہیں انہی محدود اختیارات کے تابع وہ فیصلے کرتا ہے لیکن اُس کے سامنے جواب دہ نہیں۔جس طرح وہ ہر لمحہ خدا کے سامنے جواب دہ رہتا ہے جو اُن کی جواب طلبی کرتا ہے یعنی خلیفہ وقت۔ہر وقت خدا کے سامنے جوابدہ ہے۔جماعت خلیفہ وقت کے سامنے جوابدہ ہے کیونکہ خدا تعالیٰ نے جو امانت خلیفہ وقت کے سپر دفرمائی ہے وہ آگے مختلف دائروں میں جماعت کے مختلف عہد یداروں کے سپرد کی جاتی ہے اور اُن سے جو جواب طلبی ہے وہ دوانسانوں کے درمیان ہے اور اُس میں محدود علم کی بنا پر کئی لوگ بچ جاتے ہیں اور محدود علم کی بنا پر کئی لوگ سزا پاتے ہیں اور ہوسکتا ہے کہ وہ سزاوار نہ ہوں۔انسانی معاملات میں اس قسم کی غلطیوں کی گنجائشیں رہتی ہے مگر نگرانی ضروری ہے اور اسی نگرانی کی طرف میں آج آپ کو اس لئے متوجہ کرنا چاہتا ہوں۔حضرت اقدس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یہ فرمایا کہ امین اگر خیانت کرے تو اُس کی خیانت سب سے زیادہ خطر ناک خیانت ہے اور اُس سے سب سے زیادہ باز پرس ہوگی۔پس جتنے جماعت میں امیر ہیں وہ بھی اس حدیث کے تابع ہیں اور جتنے دوسرے عہدے دار ہیں جو امراء کے تابع ہیں وہ بھی اس حدیث کے تابع ہیں کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دوسرے فرمودات سے پتا چلتا ہے کہ اس مضمون کا دائرہ اتنا وسیع ہے کہ انسانی زندگی کے ہر شعبے پر حاوی ہے کوئی ایک