سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 14
14 ہمیں لازماً واقفین کی تعداد بڑھانی پڑے گی اور بکثرت بچوں، بوڑھوں، جوانوں اور عورتوں کو اس میدان میں جھونکنا پڑے گا سیدنا حضرت خلیفہ امسیح الرابع رحمہ اللہ نے سالانہ اجتماع انصار اللہ مرکزیہ کے موقع پر 6 نومبر 1982ء کو مجلس انصار اللہ مرکزیہ کی طرف سے دیئے گئے ایک عشائیہ میں سپاسنامہ کے جواب میں درج ذیل ایمان افروز خطاب فرمایا۔مغربی قوموں میں یہ رواج ہے کہ ڈنر یعنی رات کے کھانے کے بعد تقاریر ہوتی ہیں۔مہمان خاص جس کو مدعو کیا جاتا ہے وہ After dinner یعنی کھانے کے بعد تقریر کرتا ہے لیکن قرآن کریم میں اس کے بالکل برعکس رواج کا پتہ چلتا ہے حضرت یوسف علیہ السلام نے کھانے سے پہلے تقریری فرمائی اور ان کے دو ساتھی قیدیوں کو جن کو تبلیغ کرنا مقصود تھا فرمایا کہ جب تک کھانا نہیں لگتا ہم بیٹھ کر تبلیغی باتیں کرتے ہیں۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی لاہور میں کھانے کے انتظار میں احباب کو مخاطب فرمایا: آج جب انصار نے مجھ سے پوچھا کہ ہم کھانے کے بعد گفتگو کا پروگرام رکھیں یا کھانے سے پہلے تو میرے ذہن میں یہی دومثالیں تھیں جن کے پیش نظر میں نے کہا کہ کھانے سے پہلے رکھ لیں۔یورپ اپنے رواج قائم کرتا ہے ہم اپنے رواج قائم کرینگے اس لئے اب ہم کھانے سے پہلے چند منٹ باتیں کرتے ہیں۔کھانے سے پہلے تقریر رکھنے میں کئی حکمتیں ہیں ایک تو یہ کہ مقرر کو بھی کھانے کا خیال ہوتا ہے اور سننے والوں کو بھی ہوتا ہے ضرورت سے زیادہ لمبی تقریر نہیں ہوسکتی۔دوسرے یہ کہ کسی کو کھانے کے بعد کا خمار نہیں ہوتا اور لوگ پورے ہوش و حواس کے ساتھ تقریریں سنتے ہیں کھانے کے بعد کی تقریروں میں تو سوتے اور جھومتے ہوئے آدمی نظر آجاتے ہیں کھانے سے پہلے کی تقریر میں اس طرح نظر نہیں آسکتے۔اور بھی بہت سی حکمتیں ہونگی۔لیکن یہ دو میرے ذہن میں آئیں اور میں نے بیان کر دی ہیں۔سپاسنامے میں جس سفر کا ذکر کیا گیا ہے۔اس کا مرکزی نقطہ وہی ہے جو پہلے بیان کر دیا گیا کہ جو بھی اس سفر میں میسر آیا محض اور محض اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ میسر آیا۔ورنہ حقیقت یہ ہے کہ میں کیا اور میری بساط کیا یہ وہی یورپ ہے جہاں کبھی خیمہ لے کر کبھی Haver sack پیچھے رکھ کر میں پھرا کرتا تھا اور انہی گلیوں سے گزرتا تھا لیکن کسی کو پرواہ ہی نہیں تھی کہ کون آیا اور کون گزر گیا۔تبلیغی گفتگو کا بھی موقعہ ملتا تھا تو زیادہ سے زیادہ ایک دو تین یا چار کو متوجہ کر سکتا تھا۔یہ وہی وجود ہے اس میں کوئی فرق نہیں۔لیکن جب اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی برکت کے ساتھ مجھے اس سفر کی تو فیق عطا فرمائی تو بالکل کا یا پلٹ گئی۔