سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 13 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 13

13 ہیں تو کینسر بن جاتی ہیں۔پس پیشتر اس کے کہ معاشرہ کی خرابیاں ہمارے اندر مزید نفوذ کریں۔ہمیں اپنے دفاع کو کناروں پر مضبوط کرنا چاہئے اور اپنی سوسائٹی کو آج کل کے معاشرہ کی برائیوں سے کلیتہ محفوظ کر دینا چاہئے اس ضمن میں بھی مجھے انشاء اللہ تعالیٰ توقع ہے کہ انصار ایک نمایاں کردارا دا کریں گے۔ان کی تلقین اور تعلیم کے ذریعہ خدا کے فضل سے نمایاں تبدیلیاں پیدا ہوں گی۔جماعت احمد یہ ایک بہت ہی پیاری اور پاکیزہ جماعت ہے۔جس کی دنیا میں کوئی مثال نہیں ہے۔اس میں کمزوریاں تو داخل ہوتی ہیں اس میں کوئی شک نہیں لیکن بنیادی طور پر یہ ہیرے جواہرات سے زیادہ قیمتی جماعت ہے۔ان کو معمولی سا اشارہ کر دو۔تھوڑا سا جگا دو تو یہ بڑی تیزی کے ساتھ اپنے اصل مقام کی طرف واپس لوٹتے ہیں یورپ کے حالیہ دورہ میں مجھے بعض جگہ توجہ دلانے کا موقع ملا۔بعض جماعتوں میں بعض کمزوریاں نظر آئیں۔میں نے ان کو توجہ دلائی تو انہوں نے بڑی تیزی کے ساتھ اس پر ردعمل دکھایا۔حالانکہ مجھے بہت بلند تو قعات تھیں۔لیکن بعض جگہ میری توقعات سے بھی بہت بڑھ کر رد عمل ظاہر ہوا اور ہر معاملہ میں تعاون کا ایسا حیرت انگیز نمونہ دکھایا کہ میرا سارا وجود حمد سے بھر گیا اور درود سے بھر گیا۔میں نے کہا دیکھو اللہ کی شان ہے حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کا فیض ہے جس کے عظیم غلام کو ایسی روحانی قوت عطا کی گئی کہ جب وقف زندگی کا مطالبہ کیا جاتا ہے اس کی طرف منسوب ہونے والے اپنے سارے وجود کو دین کے لئے پیش کر دیتے ہیں اور کچھ بھی باقی نہیں رکھتے ان میں کوئی انانیت باقی نہیں رہتی کمزوریاں ہو جاتی ہیں غفلتیں بھی ہو جاتی ہیں۔وقتی طور پر تو میں بھی سو جایا کرتی ہیں لیکن زندہ قوموں کو ذرا سا جگا دو تو بیدار ہو جاتی ہیں بعض دفعہ پہلے سے بھی زیادہ مستعدی کے ساتھ کام کرنے لگ جاتی ہیں۔پس یہ اتنا مشکل کام نہیں ہے جو انصار کے سپرد کیا جارہا ہے۔یہ تو لہو لگا کر شہیدوں میں داخل ہونے والی بات ہے انصار ذراسی بھی محنت کریں گے تو انشاء اللہ بہت ہی شاندار وسیع گہرے اور دیر پا نتائج پیدا ہونگے۔اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ہمیں تو فیق عطا فرمائے۔خدا تعالیٰ دن بدن جماعت احمدیہ کو اس اعلیٰ مقصد کی طرف تیزی کیساتھ لے جانا شروع کرے جس کا ہمیں انتظار کرتے ہوئے ایک لمبا عرصہ گذر چکا ہے اب تو دل بے قرار ہے۔خدا جلد از جلد فتح کا وہ دن دکھائے۔جب ساری دنیا میں حضرت محمد مصطفے کا جھنڈا بلند ہورہا ہو اور دوسرے سارے جھنڈے سرنگوں ہو جائیں۔" روزنامه الفضل ربوه 2 جون 1983 ء )