سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 241
241 انصار اللہ میں ایک دائمی حالت کا ذکر ہے انصاراللہ میں ایک دائمی حالت کا ذکر فرمایا گیا ہے۔اگر نصرت طلب کی جائے تو نصرت وقتی بھی ہو سکتی ہے لیکن صحیح ناصری کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس نے وقتی نصرت طلب نہیں کی تھی۔چند قربانیوں کی طرف نہیں بلایا تھا اُس نے کہا تھا کہ۔مَنْ اَنْصَارِی اِلَی اللہ کون ہے جو اللہ کی خاطر میرا مددگار بنتا ہے اور یہاں انصار سے مراد ہے ساری زندگی کے لئے مددگار بنا رہنا کسی عارضی مدد کے لئے پیش نہ کرنا بلکہ ہمیشہ کے لئے خادموں کی فہرست میں شامل ہو جانا۔چنانچہ اس مضمون کو سمجھتے ہوئے انہوں نے یہی جواب دیا که نَحْنُ أَنْصَارُ اللہ ان کے جواب میں یہ نہیں تھا کہ ہاں ہم اللہ کے لئے تیرے مددگار بنتے ہیں بلکہ وہ اس مضمون کو خوب سمجھ گئے تھے کہ مسیح کا مددگار بنا اور اللہ کامددگار بنا ایک ہی چیز کے دو نام ہیں۔پس مسیح نے تو خوب وضاحت کر دی کہ اللہ کی خاطر میرے مددگار بنو۔جواب میں انہوں نے کہا نَحْنُ اَنْصَارُ اللهِ - ہاں ہم حاضر ہیں ہم اللہ کے مددگار ہیں، ہمیشہ اللہ کے مددگار رہیں گے تو مضمون ایک ہی ہے لیکن اختصار کے ساتھ بیان فرمایا گیا اور یہ بتایا گیا کہ دونوں باتیں ایک ہی چیز کے دو نام ہیں۔مسیح کے انصار اور اللہ کے انصار بنا دو مختلف چیزیں نہیں ہیں پس مسیح مہدی کے انصار بننا اور اللہ کے انصار بننا یہ دو مختلف چیزیں نہیں ہیں۔فرمایا کہ جب تم تجارت کرو گے اور اس رنگ میں تجارت کرو گے تو پھر یقین رکھو کہ خدا تعالیٰ ضرور تمہارا مددگار ہوگا اور وہ فتح جو تمہیں دور دکھائی دیتی ہے وہ تمہارے قریب لائی جائے گی۔یہ وہ مضمون ہے جسے جماعت احمدیہ کو خوب اچھی طرح سمجھ کر اس پر عمل درآمد کی ہر ممکن کوشش کرنی چاہئیے اس کے بغیر ہم اگلی سورۃ میں دی گئی خوشخبری کے اہل نہیں ہوسکیں گے اور وہ سب سے بڑی خوشخبری یہ ہے کہ مسیح محمدی جب یہ اعلان کرے گا کہ میرے انصار بنو تو اس شان کے ساتھ اس کی آواز پر لبیک کہا جائے گا کہ خدا تعالیٰ سورہ جمعہ میں گواہی دیتا ہے کہ وہ لوگ جو آئندہ زمانے میں ظاہر ہونے والے مسیح کے انصار بنیں گے ان کو اولین سے ملایا جائے گا اور ان کو ایک ہی مقام پر جمع کر دیا جائے گا یعنی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے اولین غلاموں کے ساتھ ان کو اکٹھا کر دیا جائے گا۔پس کتنا بڑا انعام ہے، کتنی بڑی خوشخبری ہے جو آپ کے لئے ، جو آخرین کی جماعت میں مقدر ہو چکی ہے جس کا قرآن کریم میں بڑی وضاحت کے ساتھ ذکر موجود ہے اور وہ طریق کار بھی بتا دیا گیا جس طریق پر آپ نے مسیح کی نصرت کرنی ہے اور اس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ آپ کی نصرت فرمائے گا اور آپ کو بنی نوع انسان کو ایک ہاتھ پر جمع کرنے کی توفیق بخشے گا۔