سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 233 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 233

233 پہنچیں یا ان کے نمائندے پہنچیں ، ان سے ملاقاتیں کریں۔ان سے معلوم کریں کہ آپ نے جو یہ وعدہ کیا تھا اسے پورا کرنے کے کیا انداز ہیں، کیا طریق اختیار کئے گئے ہیں، اب تک کے تجارب کیا کہتے ہیں آپ نے کس طرح کام کو آگے بڑھایا ہے اگر اس طرز پر وہ چھان بین شروع کریں گے تو معلوم ہوگا کہ فہرست میں جو اکثر نام درج ہیں وہ فرضی سے ہیں یعنی نام حقیقی تو ہیں لیکن اس حقیقت میں کوئی گہرائی نہیں۔ایک سطحی پن ہے کاغذ کی سطح پر نام درج ہوئے اور وہیں ٹھہر گئے۔عمل کی دنیا میں ان ناموں نے کوئی روپ نہیں دھارا، کوئی شکل اختیار نہیں کی ، اس لئے وہ نام سطحی رہ جاتے ہیں۔" خطبات طاہر جلد 10 صفحہ 905-916) عہد یداران دعوت الی اللہ کو اپنی جان سے ایسے لگا ئیں جیسے غم لگ جاتا ہے خطبہ جمعہ 29 نومبر 1991ء) " پس دعوت الی اللہ سے متعلق تمام عہدیداران کو خواہ وہ منتظم ہوں ، ناظم ہوں ،سیکرٹری ہوں یا امراء ہوں ، میں نصیحت کرتا ہوں کہ اپنے دل کا پہلے جائزہ لیں کہ کیا آپ نے اس کام کو اپنی جان کے ساتھ اس طرح لگا لیا ہے جیسے غم لگ جایا کرتے ہیں جیسے لگن لگ جاتی ہے جیسے عاشق کو عشق کھانے لگ جاتا ہے۔کیا ایسی کیفیت آپ کی اس پروگرام سے متعلق پیدا ہوئی ہے یا نہیں؟ یا کچھ نہ کچھ اس قسم کی کیفیت آپ محسوس کرتے ہیں یا نہیں اگر نہیں تو پھر ابھی یہ کام آپ کے بس میں نہیں۔آپ کو اپنا کچھ اور تعلق دین کے کاموں سے اور دین کے کاموں کے اپنی تکمیل تک پہنچنے کے معاملہ سے بڑھانا پڑے گا۔یہ تعلق بڑھے گا تو کام آگے چلے گا۔اگر یہ تعلق نہیں بڑھے گا تو سب چیزیں وہیں کی وہیں کھڑی رہ جائیں گی۔جہاں پہلی حالت میں تھیں اور یہی عموماً ہوتا ہے۔پس لگن کے نتیجہ میں جستجو اور تبع پیدا ہونا چاہئے اور اگر یہ نہیں ہے تو اسی حد تک آپ کے دل کی لگن میں اور اس کے تعلق میں کمی ہے۔آگے پھر اس کام کو کرنا کس طرح ہے؟ کام تو اتنا زیادہ ہے کہ اس سلسلہ میں فوری طور پر کسی کے لئے ممکن نہیں ہے کہ ہر دعوت الی اللہ کرنے والے تک پہنچ کر اس کی کیفیات کا جائزہ لے، اس کے پروگراموں کا جائزہ لے ، وہ پروگرام کس طرح چلا رہا ہے۔ان باتوں کا جائزہ لے۔یہ کام لمبا ہے لیکن اس کا آغاز ہونا چاہئے اور اگر آغاز درست ہو جائے تو انشاء اللہ تعالیٰ رفتہ رفتہ یہ کام سنبھالا جائے گا۔“ خطبات طاہر جلد 10 صفحہ 923-924)