سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 228 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 228

228 قرآن کریم نے فرمایا ہے کہ ذمہ داریاں سپرد کرتے وقت تقویٰ دیکھا کرو۔لیکن ان کے نیچے ایسی ٹیم بنائی جاسکتی ہے جو پہلے مستعد نہیں لیکن ان کو مستعد بنانا مقصود ہو اور ان کی صلاحیتوں سے پورا پورا استفادہ کرنا مقصود ہو۔ایسے لوگ مہیا کر کے ان کے سپرد کئے جاسکتے ہیں۔میں نے دیکھا ہے بعض دفعہ عہد یداران میں براہ راست یہ صلاحیت نہیں ہوتی کہ وہ ٹیم بنائیں۔میں ان کے لئے بعض نو جوانوں کو تلاش کرتا ہوں۔ذاتی طور پر ان کو سمجھاتا ہوں ،سکھاتا ہوں اور پھر ان کے سپر د کر دیتا ہوں اس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ ان کو ٹیم ملتی ہے جس سے پھر وہ بہت عمدہ کام لینا شروع کر دیتے ہیں۔شعبہ اصلاح وارشاد کو معلومات اکٹھی کرنے کے لئے نائبین بنانے چاہئیں پس معلومات کے سلسلہ میں سیکرٹری اصلاح وارشاد کو ایسے Specialist نائبین مہیا کرنے چاہئیں جن کے سپر د مختلف شعبے ہوں مثلاً معلومات مہیا کرنا اور معلومات کو گردش میں رکھنا اور معلومات کے سلسلہ میں وسعت نظر پیدا کرنا صرف یہ نہیں دیکھنا کہ فلاں اعداد و شمار مہیا ہو گئے اور ہم نے پہنچا دیئے ہیں بلکہ آگے بڑھ کر یہ سوچنا کہ ان باتوں کو پہنچانے کا مقصد کیا ہے اگر ہمارے پاس Bulk of stock نہیں ہے۔اگر ہم دلچسپی پیدا ہونے کے نتیجہ میں ان کی طلب کو پورا نہیں کر سکتے تو ان معلومات کو مہیا کرنے کا کیا فائدہ ؟ اس لئے طلب بیدار کرنا اور طلب کو پورا کرنے کے سامان مہیا کرنا یہ اس مخصوص نائب کا کام ہے جو سیکرٹری کے ساتھ اس کام کے لئے متعلق ہو۔اس کو مرکز سے بار بار خط و کتابت کرنی پڑے گی۔مرکز سے کر تو سکتا ہے لیکن اصل طریق یہ ہے کہ اپنے ہیڈ کوارٹر سے اپنے ملک کے متعلقہ شعبہ سے وہ تعلق قائم کرے اور جو ملک کا سیکرٹری ہے وہ مرکز سے براہ راست تعلق قائم کرے اور ان سے کہے کہ ہم نے یہ یہ معلومات مہیا کی ہیں۔فلاں فلاں کتب کے بارہ میں تعارف کرایا ہے۔ان کو استعمال کرنے کے ڈھنگ سکھائے ہیں اور ہمارے پاس صرف دو موجود ہیں۔اب طلب شروع ہوگی تو ہم کیا کریں گے اس لئے ہمیں اتنی ضرور بھجوا دیجئے۔اسی طرح رفتہ رفتہ ان کے لئے جگہیں بھی مہیا کرنی ہونگی۔کہاں کتا بیں رکھی جائیں کس طرح ان کو سلیقے سے رکھا جائے کہ وقت کے اوپر آسانی سے نکالا جا سکے۔کام شروع کیا جائے تو جتنا کام سمٹتا ہے اتنا آگے بھی بڑھتا ہے اور معاشرے اسی طرح ہمیشہ ارتقا پذیر ہوتے ہیں۔جتنا زیادہ آپ کام سمیٹنے کی کوشش کریں گے آپ فارغ نہیں ہوں گے بلکہ کام بڑھے گا اور کام بڑھے گا تو پھر آپ کو اور آدمیوں کی ضرورت ہوگی اسی لئے میں نے پہلے خطبہ میں ہی یا دوسرے میں یہ نصیحت کی تھی کہ ایک بہت اہم دعا قرآن کریم نے ہمیں سکھائی ہے اس کو ہرگز نہ بھولیں۔خود بھی کرتے رہیں اور اپنے نائین کو یا متعلقہ عہد یداران کو بھی سمجھاتے رہیں کہ رَبِّ اَدْخِلْنِي مُدْخَلَ صِدْقٍ وَ أَخْرِجْنِي مُخْرَجَ صِدْقٍ