سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 227
227 Embassador کو بلاؤ دعوت دے کر اور نمائش دکھاؤ اور ان سے رابطے پیدا کرو ہم نے روسی ایمبسڈ رکو بلایا اس نے بہت خوشی سے دعوت کو قبول کیا لیکن ہمیں بہت شرمندگی ہوئی کہ جب اس نے قرآن کریم خریدنے کی خواہش ظاہر کی اور ہم نے دیکھا تو ایک ہی نسخہ تھا جو لائبریری کے لئے تھا اور اس کے سٹاف نے بھی بڑی دلچسپی لی لیکن ہم نے ان کو پتے لکھ دیئے ہیں کہ کہاں سے منگوائے جاسکتے ہیں۔اب یہ تو کوئی بات ہی نہیں۔بڑے ہی افسوس کی بات ہے کہ جب آپ دعوت دیتے ہیں تو آپ کو کم سے کم یہ توقع تو کرنی چاہئے کہ جو چیز دکھا ئیں گے جس کی وہ زبان ہے اس میں وہ اگر کسی لٹریچر میں دلچسپی لے گا کسی کتاب میں دلچسپی لے گا تو مانگے گا بھی تو سہی اور اگر نہ بھی مانگے تو کچھ نہ کچھ تو اس کی خدمت میں پیش کرنے کے لئے آپ کو زائد ضرور رکھنا چاہئے تو معلومات کی کمی اور معلومات میں دلچسپی کی کمی دونوں عملاً ایک ہی نتیجہ پیدا کرتے ہیں اور وقت کے اوپر وہ ضرورت کی چیز کام نہیں آسکتی۔پس معلومات پہنچانی ہیں مگر اس طرح نہیں جیسے سر سے بوجھ اتارا جائے ایک دفعہ ایک لسٹ شائع کر کے اگر آپ ساری جماعت میں تقسیم کرا دیں تو یہ معلومات پہنچانا میرے نزدیک نہیں ہے کیونکہ میں معلومات ان باتوں کو کہتا ہوں جن میں وہ دلچسپی پیدا ہو، جن کو انسان استعمال کر سکتا ہو ورنہ وہ معلومات جو عمل کی سطح پر ذہن کے سامنے حاضر نہ رہیں وہ رفتہ رفتہ لاشعور میں دینی شروع ہو جاتی ہیں اور ایسے ہی ہے جیسے نہ ہوں پس معلومات پہنچانا اور بیدار مغزی کے ساتھ ان کو لوگوں کے پیش نظر رکھنا اور اس طریق پر الٹتے پلٹتے رہنا کہ انسانی ذہن جو نیند کا عادی ہے وہ کچھ دیر کے لئے تو بیدار ہو اور اتنی چیز اس کے سامنے ہو جتنی اس کے اندر سمجھنے کی صلاحیت ہے۔پس ٹکڑوں ٹکڑوں میں معلومات پہنچانا اور پھر ان کی پیروی کرنا ، ان کا تتبع کرنا اور معلوم کرنا کہ اس سے کیا فائدہ ہوا۔کسی نے ان چیزوں کو استعمال بھی کیا کہ نہیں۔یہ ایک مسلسل نظام ہے جو باقاعدہ منصوبے کے تحت چلنا چاہئے اور اگر سیکرٹری تبلیغ کو خود اس بات کی استطاعت نہیں ہے۔بعض دفعہ جماعتیں ایسا آدمی چن دیتی ہیں جس کو واقعہ اس شعبہ کے لئے کوئی خاص استطاعت نہیں ہوتی۔تو اول تو امراء کا کام ہے کہ وہ خود ساتھ مل کر اسے سمجھا کر تربیت دیں اور رفتہ رفتہ ان باتوں کے قابل بنائیں اور اگر یہ نہیں کر سکتے تو ان کے ساتھ بعض خصوصی کاموں کے لئے سپیشلسٹ یعنی تخصیص کے ماہر نائبین مقرر کر دیں ، مددگار مقرر کر دیں اور کسی کے سپرد ایک کام کر دیا جائے کسی کے سپر د دوسرا کام کر دیا جائے۔جماعتوں کی مجبوریاں بھی ہیں۔انتخاب کے وقت محض کسی خاص شعبے کی صلاحیت کو مد نظر نہیں رکھا جا سکتا اس شخص کی دلچسپی کو بھی تو پیش نظر رکھنا پڑے گا اور اس کا تقویٰ کے ساتھ تعلق ہے۔جس شخص کواللہ تعالیٰ کا زیادہ خوف ہے، خدا کے لئے دل میں زیادہ محبت ہے۔جماعتی کاموں میں زیادہ دلچسپی لیتا ہے۔اس کی ذہنی اور قلبی صلاحیتیں تو اس کے اختیار کی بات نہیں لیکن جماعت دیکھتی ہے کہ یہ لوگ ہیں جو خدمت کرنے والے ہیں ان کے نام وہ چنتی ہے اور یہی ہے جو