سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 217
217 روحانی سفر سے ہے اور حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کور وحانی سفر میں جو مدارج عطا ہونے تھے ان مدارج سے تعلق ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ ہر مرحلہ جو طے ہوتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نصیر کے ذریعہ طے ہوتا ہے اور محض اپنی کوشش سے طے نہیں ہوتا۔پس اس دُعا کے ساتھ جب امراء اور دیگر عہدیداران اپنے کام کا آغاز کریں گے اور منصوبہ بندی کریں گے تو مجھے یقین ہے کہ انشاء اللہ تعالیٰ ان کونئی روشنی نصیب ہوگی۔ان کو نئے مددگار ملیں گے اور یہ محض ایک عقلی استدلال نہیں ہے بلکہ تجربے کی بات ہے۔میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ اگر دعا پر اخلاص کے ساتھ پورا انحصار ہو، یقین کے ساتھ انحصار ہو تو روزمرہ کے صرف طبعی مددگار نہیں ملتے بلکہ ایسے مددگار ملتے ہیں جن کے متعلق خدا تعالیٰ یقین دلاتا ہے کہ یہ دعا کا نتیجہ ہیں۔ایسے مددگار جو پہلے غافل تھے وہ جاگ اُٹھتے ہیں۔ایسے لوگ مد دکو آ جاتے ہیں جن کے متعلق انسان کو توقع ہی نہیں تھی اور نصیر کا مضمون دن بدن شہادت کی دنیا میں ظاہر ہوتا ہے۔گویا اللہ تعالیٰ کے فیض اور اس کا فضل نصیر کا روپ دھار دھار کر غیب سے وجود میں آجاتا ہے اور واقعہ آپ ان مددگاروں کو دیکھتے ہیں اور پھر وہ مددگار جو خدا کی طرف سے عطا ہوتے ہیں ان میں سلطانیت پائی جاتی ہے۔یہ ایک بہت ہی گہرا اور عظیم مضمون ہے جو قرآن کریم کی اس دعا نے ہمیں سمجھایا کہ دنیا کے مددگار ضروری نہیں کہ اپنی مدد میں طاقت بھی رکھتے ہوں اور ان کی مدد کو غلبے کی ضمانت نصیب ہومگر اس دعا کے نتیجہ میں جو مددگار ملتے ہیں ان کے متعلق قرآن کریم فرماتا ہے کہ تم نے سُلْطَنَّا نَصِيرًا مانگے تھے اور تمہیں سُلْطنًا نَصِيرًا ہی عطا ہوئے ہیں اور اس طرح تم پہچان لو کہ جو کچھ تمہیں ملا ہے تمہیں دعا کے نتیجہ میں ملا ہے۔سلطان کا مطلب ہے غالب، بادشاہ کو بھی سلطان کہتے ہیں جس میں طاقت ہو، جو کرنا چاہے وہ کر دکھائے ، جس میں دلیل بھی ہو معقولیت بھی ہو۔سلطان بہت عظیم لفظ ہے۔پس ایسے نصیر ملیں گے جو استدلال کی قوت رکھتے ہوں گے۔جن میں غلبے کی صلاحیت موجود ہوگی جو جیسا چاہیں وہ کر کے دکھا سکتے ہوں گے۔ایسے مددگار اگر حاصل کرنے ہیں تو اس سفر کے آغاز میں بھی یہ دعا کریں اس سفر کے دوران بھی یہ دعائیں کیا کریں۔محاسبہ کرنے کا طریق محاسبہ کرتے وقت بہت سی باتوں کو پیش نظر رکھنا ہوگا۔مثلا سفر سے پہلے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ اس وقت آپ کس مقام پر کھڑے ہیں تمام حالات کا جائزہ لینا اور اور یہ دیکھنا کہ ہم کون کون سے ذرائع استعمال کر رہے ہیں یہ محاسبے کے لئے ضروری ہے لیکن اس کو حقیقت کی نظر سے دیکھنا ہوگار پورٹوں کی زبان میں نہیں پڑنا