سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 9
9 فضل سے یہ ایک ہوا چلی ہے انگلستان میں بھی یورپ کے دوسرے ممالک میں بھی واپس آیا تو کراچی میں بھی اور یہاں آنے کے بعد پنجاب کی مختلف جماعتوں سے بھی ایسے نام پہنچ چکے ہیں جنہوں نے اسی ارادہ کا اظہار کیا کہ ہم اللہ تعالیٰ کی خاطر رضا کارانہ طور پر اپنے آپ کو پیش کرتے ہیں۔چنانچہ بعض دوستوں نے تو یہاں تک اصرار کیا کہ ابھی اس وقت ہمارا وقف قبول کیا جائے اور اسی وقت خدمت سپرد کی جائے۔چند دن ہوئے سرگودہا کے ایک دوست تشریف لائے۔کہنے لگے میں پہلے بھی لکھ چکا ہوں ابھی تک میر اوقف قبول نہیں ہوا۔میں نے کہا ہمیں تو بڑی ضرورت ہے۔آپ کو انشاء اللہ کسی جگہ لگا دیں گے۔انہوں نے کہا مجھے چین نہیں آئے گا مجھے ابھی لگائیں۔اور کوئی کام نہیں تو مجھے دفتر پرائیویٹ سیکرٹری میں کلرک لگا دیں۔یہ نہیں تو بے شک مدد گار کارکن بنادیں۔میں کوئی شکوہ نہیں کروں گا۔کوئی سوال نہیں ہو گا کہ مجھے کس آسامی پر لگایا جارہا ہے۔پر ابھی لگائیں۔ورنہ میرے دل کو چین نصیب نہیں ہوگا۔چنانچہ اسٹنٹ پرائیویٹ سیکرٹری صاحب پاس کھڑے تھے۔میں نے ان سے کہا کوئی کام ان کے سپر د کریں۔اللہ کے فضل سے انہوں نے اسی وقت کام شروع کر دیا۔جس خدمت پر لگایا جائے ،انعام سمجھیں پس ایسے زندہ دل اور ایسے جواں ہمت انصار کی ضرورت ہے۔جو ان نیک ارادوں کے ساتھ اپنے نام پیش کریں کہ انہیں جہاں بھی جس شکل میں بھی خدمت کے کام پر لگایا جائے گا وہ اس کو انعام سمجھیں گے۔اللہ کی رحمت تصور کریں گے۔اگر ادنیٰ سے ادنی کام پر بھی لگایا جائے گا۔تب بھی وہ خوش ہوں گے۔کہ خدا کے نوکر ہیں اگر کام نہیں بھی ہوگا۔ان کا وقت بظاہر ضائع بھی ہو رہا ہو گا تب بھی وہ یہ سمجھیں گے کہ خدا کی خاطر بیٹھے انتظار کر رہے ہیں۔اس سے بہتر زندگی اور کیا ہو سکتی ہے۔خدا کی خاطر یہ بیکاری بھی ہزار ہا کاموں سے بہتر ہوتی ہے۔ملٹن نے اس مضمون کو سمجھا۔اس نے اپنے شعر میں اس کو بیان کیا ملٹن وہ شاعر ہے جو آخری عمر میں اندھا ہو گیا تھا ایک ایسا آدمی جس کی فعال زندگی گزری ہو۔تمام عمر کاموں میں صرف ہوئی ہو وہ اگر آخری عمر میں اندھا ہو جائے تو اس کے دل کی ایک خاص کیفیت ہوتی ہے۔وہ قدم قدم پر بڑا دکھ محسوس کرتا ہے ملٹن میں نیکی بھی پائی جاتی تھی۔وہ خدا کا ایک خاص خوف بھی دل میں رکھتا تھا۔اس کی محبت بھی رکھتا تھا۔چنانچہ اس نے اپنی ایک نظم میں اپنی اس کیفیت کو ظاہر کرتے ہوئے اپنے دل کو اسی طرح تسکین دی اس نے کہا۔They also serve who stand and wait کہ اے ملٹن ! تم غم نہ کرو۔وہ بھی تو خدمت ہی میں ہوتے ہیں جو کھڑے ہو کر حکم کا انتظار کر رہے ہوتے ہیں۔ہم لوگ تو اس سے کہیں زیادہ عارف باللہ ہیں۔وہ تو ایک تصوراتی خدا سے