سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 8 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 8

8 ایسے دوستوں کی ہوتی ہے جن کو ریٹائر منٹ کے بعد کوئی کام نہیں ملتا۔پس جن کو کام نہیں ملتا ان کی اس سے زیادہ خوش نصیبی اور کیا ہو سکتی ہے کہ وہ اپنی بقیہ عمر خدا کے دین کی خدمت کے لئے رضا کارانہ طور پر وقف کر دیں ( یہ وقف خصوصی وقف ہے اس لئے یہ رضا کارانہ طور پر ہوگا۔اس میں سلسلہ ان کو مالی لحاظ سے کچھ بھی نہیں دے گا۔اگر وہ گھر بیٹھے گزارہ کر لیتے ہیں تو مرکز میں آکر بھی گزارہ کر سکتے ہیں۔ہاں اگر کوئی مجبور ہو۔گھر سے جدا ہو کر وہ علیحدہ خوراک وغیرہ کے انتظام کی سکت نہ پاتا ہو تو اس کے کھانے اور رہائش وغیرہ کے انتظام کی حد تک رعایت دی جاسکتی ہے۔مگر بہر حال چونکہ کام بہت بڑھ رہا ہے اس لئے خالص رضا کار واقفین کی بھی ضرورت ہے۔) دوسرے وہ دوست جو ملا زمت سے فارغ ہونے کے بعد رزق کے بعض اور رستے پالیتے ہیں۔ان کو نئے نئے ذرائع معاش میسر آجاتے ہیں۔ان سے میں یہ کہتا ہوں کہ آپ نے زندگی کا ایک بڑا حصہ دنیا کمانے میں صرف کیا۔اب یہ چھوٹی سی آزمائش آپ کو در پیش ہے۔اب اس قصہ کو ختم کریں۔کیا پتہ خدا کی طرف سے کس وقت کسی کو بلا وہ آجائے۔اگر چہ عمر کا ایک بڑا حصہ آپ نے مقامی طور پر خدمت کرنے میں گزارا۔لیکن با قاعدہ واقف کے طور پر نہیں سلسلہ کے کاموں میں پیش پیش رہ کر خدمت کی توفیق ملی۔اس سے انکار نہیں لیکن جو لطف ساری زندگی پیش کر دینے میں ہے وہ لطف اس قسم کی خدمتوں میں میسر نہیں آسکتا۔یہ لطف بھی کیا لطف ہے کہ انسان اپنے ہاتھ سے اپنی رضا کی گردن پر چھری رکھ دے۔اور وہ پھر اپنا ہاتھ اٹھالے اور سلسلہ سے کہے کہ آپ جس کے ہاتھ میں چاہو یہ چھری پکڑا دو ہم اُف نہیں کریں گے۔پس اگر انسان اپنے دل میں کوئی امنگ نہ رہنے دے۔کوئی تمنا نہ رہنے دے۔وہ یہ فیصلہ کرلے کہ دنیا کی زندگی کے جو مزے لوٹنے تھے وہ لوٹ چکا ہوں اب سب کچھ خدا کیلئے ہے۔اس ارادہ اس اخلاص اور اس نیت کیساتھ زندگی پیش کرنے کا ایک الگ لطف ہے اس لئے ایسے انصار جن کو دنیا کے ذرائع معاش میسر ہوں۔وہ اگر اپنے دل میں یہ ہمت پاتے ہوں۔اگر ان کے حالات اجازت دیتے ہوں۔تھوڑے ہی گزارہ کرنے کی توفیق پالیتے ہوں تو ان کو میں یہی کہوں گا کہ یہ بہت بہتر راستہ ہے۔وہ اپنے آپ کو خدمت دین کے لئے پیش کریں اور سلسلہ کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کرنے میں حصہ لیں کیونکہ جتنے زیادہ واقفین اس وقت میسر آئیں گے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے اتنی ہی تیزی کے ساتھ اسلام کو چہار دانگ عالم میں فتح نصیب ہوگی۔بیرون ملک جا کر خدمت دین کرسکیں علاوہ ازیں ایسے واقفین بھی چاہئیں جو یہ تو فیق رکھتے ہوں کہ مرکز سے باہر جا کر بھی خدمت دین کر سکیں۔یہ بھی اس قسم کا رضا کارانہ وقف ہوگا۔اس تحریک سے پہلے بھی بعض دوستوں نے اپنے نام اس سلسلہ میں پیش کئے ہیں۔اللہ تعالیٰ کے