سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 196 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 196

196 آدمی بیٹھا تھا جو آئے کبھی عزت اور محبت کے ساتھ کچھ دے جائے تو اس کو دعا دے کر قبول کرتے تھے اور اسی سے چندے بھی دیا کرتے تھے۔ان کے اس مقام کا ایک احترام قائم تھا اور بچے بھی جب گزرتے تھے تو بھائی شمس الدین کہہ کے ، سلام کر کے ادب سے جھک کر وہاں سے گزرا کرتے تھے۔وہاں بعض پاگلوں کی بھی عزت کی جاتی تھی کیونکہ وہ نیکی کی حالت میں پاگل ہوئے اور پاگل پن کی حالت میں بھی نیکی ساتھ چل رہی تھی اور ان کے ساتھ بھی بڑی محبت اور احترام کا سلوک کیا جاتا تھا۔چنانچہ ایک ایسے ہی پاگل تھے جو مجھے یاد ہے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کے مردانے میں بڑے حق کے ساتھ داخل ہوا کرتے تھے ، ان کا جو مطالبہ ہو وہ وہاں پورا کرنے کی کوشش کی جاتی تھی۔مجلس میں بیٹھتے تھے اپنے رنگ کی باتیں کر کے چلے جایا کرتے تھے اور پاگل پن تو تھالیکن پاگل پن کے ساتھ کچھ نیکی کی حکمت بھی ہوتی تھی۔وہ جو ہمارے معاشرے میں مجذوب کا تصور پیدا ہوا ہے وہ غالباً اسی وجہ سے ہوا ہے جو بیرونی معاشروں میں نہیں ملتا۔مجذوب کے بعض دفعہ بہت ہی عارفانہ کلمات جاری ہوتے رہتے ہیں مجذوب ایسے پاگل کو کہتے ہیں جو غالباً پاگل ہونے سے پہلے خدا سے تعلق رکھنے والا ہوتا تھا اور اس کی وجہ سے پاگل پن میں بھی اس تعلق کی جزاء اس کو ملتی رہتی ہے اور اس کے منہ سے بعض دفعہ بہت سے عارفانہ کلمات جاری ہوتے رہتے ہیں۔جہاں جاہل سوسائٹی ہو وہاں وہ اس نکتے کو نہ سمجھنے کی وجہ سے پاگلوں کی عزت کرنے لگ جاتے ہیں۔ہر فقیر، پاگل ، بے وقوف خواہ وہ گندہی بکنے والا ہو اس کی بھی عزت کرنے لگ جاتے ہیں۔کہتے ہیں جی! مجذوب ہے حالانکہ یہ جہالت ہے۔ہر شخص مجذوب نہیں ہوا کرتا۔مجذوب وہ پاگل ہے جس کے پاگل پن میں بھی خدا کے تعلق کے آثار ظاہر ہوں اور بسا اوقات اس کے منہ سے عرفان کی باتیں جاری ہوتی ہیں جو قرآن و حدیث اور سنت کے مضامین کے مطابق ہوتی ہیں ان سے ٹکرانے والی نہیں۔بہر حال جب ایسی سوسائٹی ہو تو جیسے میں نے بیان کیا ہے یہ عزتیں طبقات کے پیش نظر نہیں کی جاتیں بلکہ تقویٰ کے پیش نظر کی جاتی ہیں۔وہاں ایسے بھی بزرگ تھے جو ہر لحاظ سے بلند مقام اور مراتب رکھتے تھے، اپنے عہدوں کے لحاظ سے بھی، دنیا کے لحاظ سے بھی۔ان کو اس وجہ سے کہ خدا نے ان کو دنیاوی عزت دی ہے حسد کا شکار نہیں بنایا جاتا تھا۔تقویٰ کی سوسائٹی کا ایک یہ بھی پہلو ہے جسے پیش نظر رکھنا چاہئے۔بعض جہلاء تقویٰ کا یہ مطلب سمجھتے ہیں کہ صرف غریب کی عزت کی جائے اور امیر کو نفرت کی نگاہ سے دیکھا جائے لیکن متقی وہ ہے جو تقویٰ کی عزت کرتا ہے تقویٰ اگر گودڑی میں بھی دکھائی دے تو وہ اس سے محبت کرے گا اور پیار کرے گا اگر شاہانہ فاخرانہ لباس میں بھی دکھائی دے تب بھی وہ تقوی سے پیار کرے گا نہ گودڑی کے چیتھڑے اسے تقویٰ کی عزت کرنے سے باز رکھ سکیں گے، نہ فاخرانہ لباس کی چمک دمک اس کی نظر میں شامل ہو سکے گی کیونکہ اس کی نظر تقویٰ کی عاشق ہوتی ہے۔جہاں بھی دکھائی دے وہ اس کی عزت کرتی ہے۔پس یہ تقویٰ کا وہ