سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 187
187 جس میں آج احمدی دم لے رہے ہیں۔یہ اَسْفَلَ سَفِلِینَ کا معاشرہ ہے۔ہرطرف سے آپ کو آواز میں پڑیں گی کہ آؤ اور دنیا کی لذتوں میں ہمارا ساتھ دو اور ہمارے ساتھ مل کرواپسی کے وہ سفر اختیار کرو جن کے نتیجے میں ہم حیوانی اور بہیمانہ لذتیں حاصل کر رہے ہیں۔دوسری طرف خدا تعالی کی آواز ہے کہ یہ تمہارے تنزل اور ذلتوں کے رستے ہیں پھر خدا کی طرف تمہارا رجوع نہیں ہو سکے گا سوائے اس کے کہ فرشتے ہانک کر تمہیں لے کے جائیں لیکن لذتوں کی طرف نہیں جنموں کی طرف تم ہانکے جاؤ گے اس لئے اس مقام سے واپس لوٹو آگے بڑھوا اور جن مقاصد کی خاطر تمہیں حیرت انگیز طور پر روحانی ترقی دی گئی ہے ، شعور دیا گیا ہے، غیر معمولی طور پر لطافتوں کے ادراک کی طاقتیں عطا کی گئی ہیں لطافتوں کو سمجھنے کی طاقتیں عطا کی گئی ہیں ان پر غور کرو، ان سے سبق سیکھو اور آگے بڑھو اور اپنے خدا کی طرف حرکت کرو اور خدا کی طرف سفر اختیار کرو۔یہ سفر اس دنیا میں ہونا ضروری ہے ورنہ پھر اس دنیا میں جا کر یہ سفر اختیار نہیں کیا جاسکتا۔یہ وہ بات ہے جو قرآن کریم بار بار آپ کو سمجھاتا ہے یہ بات ہے جو آپ کو خصوصیت سے اپنی نئی نسلوں کو سمجھانی چاہئے کیونکہ جب تک ایک مضبوط فلسفہ ان کی حفاظت نہیں کرے گا وہ دنیا کی ظاہری اور سرسری لذات میں کھوئے جائیں گے۔کوئی تنظیم اپنے کسی ممبر کے ساتھ ہمیشہ جڑ کر نہیں رہ سکتی۔زندگی کے بہت ہی ایسے مواقع ہیں جن میں انسان تنہا سفر کرتا ہے اور تنظیم کی نظر وہاں تک نہیں پہنچتی تنظیم کی پابندیاں اس کو کسی خاص حالت پر مقید نہیں رکھ سکتی ایسے وقتوں میں جو معاشرے کے غالب اثرات ہیں وہ یقیناً اس کو اپنی طرف کھینچنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔سوائے اس کے کہ اس کا دل اور اس کا دماغ دونوں مطمئن ہوں کہ یہ معاشرہ گندہ اور ظالم ہے اس کے لئے نقصان دہ ہے اور پوری طرح مطمئن ہوں کہ جو راہ اس نے اختیار کی ہے اس کے پیچھے ایک گہرا فلسفہ ہے، ایک بہت بڑی حکمت ہے۔یہ باتیں سمجھنے کے بعد پھر وہ ان کے خطرات سے باہر آ سکتا ہے بشرطیکہ دعا کا بھی عادی ہو، بشر طیکہ وہ قدم قدم پر خدا تعالیٰ سے مدد مانگنے والا ہو اور اسی پر توکل کرنے والا ہو۔پس جہاں آپ جھوٹ سے توبہ کر کے خدا کی پناہ میں آئیں گے وہاں اس سفر میں جو یہ دوسرا سفر ہے خدا آپ کا یقیناً ساتھ دے گا اور غیر معمولی طاقت عطا کرے گا۔ہر خطرے سے آپ کو بچائے گا اور اس رستے پر ڈال دے گا جوغیر ممنون ہے جو بھی ختم نہ ہونے والا ہے۔ہمیں دعا کرنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے اور اس کی توفیق کے بغیر ہم اس دنیا کے حالات بدل نہیں سکتے جس دنیا میں اس وقت یہاں موجود ہیں۔اس دنیا کو آج دلائل سے بڑھ کر خدا والوں کی ضرورت ہے۔لوگ بارہا مجھ سے پوچھتے ہیں کہ ہم تبلیغ کیسے کریں؟ ہم تبلیغ کرتے تو ہیں مگر اثر نہیں دکھاتی۔تبلیغ و ہی اثر دکھاتی ہے جو خدا والے کی تبلیغ ہو۔جوان تجارب سے گزرا ہوا ہو۔جانتا ہو کہ ایک خدا ہے وہ جانتا ہو کہ وہ خدا اس کے ساتھ ہے۔بار ہا اس کے پیار اور قرب کے جلوے دیکھ چکا ہو اس کی بات میں وزن ہوتا ہے اس کی بات میں قوت عطا کی