سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 177
177 ہیں۔مومن کو تقویٰ کے ساتھ کام لینا چاہئے۔حقائق کے ساتھ تعلق جوڑنا چاہئے۔وہ لوگ جو یہ طعنے دیتے ہیں کہ جی ! فلاں شخص دیکھو۔جی نمازیں بظاہر اتنے خشوع سے پڑھتا ہے، چندے دیتا ہے لیکن ضرورت پڑنے پر جھوٹ بول دیا۔یہ بھی محض ایک گھٹیا طعنہ آمیزی ہے۔ہر چیز کے اپنے اپنے کام ہیں اور اپنے اپنے مقامات ہیں اور زندگی کو اس طرح نہیں کیا جاسکتا کہ یا کلیۂ پاک ہو یا کلیہ ہد ہو۔دونوں آمیزشیں ہیں بدی کی اور حسن کی اور پاکیزگی کی یہ ساتھ ساتھ چلتی ہیں۔مومن کا کام ہے کہ جد وجہد کرتا چلا جائے۔اپنی بدیوں کو کم کرتا چلا جائے اور اپنی نیکیوں کو بڑھاتا چلا جائے۔اس حقیقت پسندی کے ساتھ ہمیں اپنی اصلاح کے لئے آگے قدم بڑھانے ہیں اور اصلاح کی اس جستجو میں سب سے پہلے سچ کی جستجو ضروری ہے۔اگر برائیاں مٹانی ہیں اور رفتہ رفتہ ہر قسم کی بدیوں سے پاک ہونا ہے تو سب سے پہلا قدم جھوٹ سے پاک ہونے کا قدم ہے۔جرمنی منتقل ہونے والوں کو نصیحت اس دفعہ جو لوگ باہر سے تشریف لائے ان میں سے کچھ ایسے ہیں جن کے متعلق مجھے علم ہے کہ جرمنی آگئے ہیں اور انگلستان میں اپنے پیچھے اس طرح جھوٹ کی ایک لکیر چھوڑ آئے ہیں جس طرح سانپ چلتا ہے تو اپنے پیچھے رستے پر ایک لکیر چھوڑ جاتا ہے۔ان لوگوں کے نام ظاہر کرنا یہ تو ناجائز اور نامناسب ہے اور یہ بھی نہیں کہا جاسکتا کہ کتنے ہیں؟ لیکن بعض کے جانے کے بعد اُن کے بعض جھوٹ میرے علم میں آئے اور مجھے اس کی تکلیف پہنچی۔اس لئے میں نے اسی وقت یہ فیصلہ کر لیا کہ جرمنی کی جماعت میں جو خطبہ دوں گا اس میں سب سے زیادہ اہم نصیحت جھوٹ سے پر ہیز کی نصیحت ہوگی۔جھوٹ سے متعلق قرآن کریم نے مختلف مواقع پر جو بڑی شدت کے ساتھ اس سے باز رہنے کی ہدایت فرمائی ہے اس میں سب سے زیادہ زور اس رنگ میں دیا گیا کہ جھوٹ کو شرک کے ہم پلہ قرار دیا گیا ہے۔جھوٹ اور شرک کو آپس میں اس طرح جوڑ کر بیان کیا ہے گویا وہ ایک ہی چیز کے دونام بن جاتے ہیں۔پس یا درکھیں کہ حقیقت یہ ہے کہ جھوٹ کی نفسیات ایک شرک کی نفسیات کے مشابہ ہیں۔دونوں کی بنیادیں ایک جیسی ہیں۔آگے جا کر کچھ رستے بدل جاتے ہیں اور بظاہر اختلافات نظر آتے ہیں۔وہاں مختلف شکلیں اختیار کر لیتے ہیں لیکن حقیقت میں جھوٹ اور شرک دراصل ایک ہی جڑ کے دو درخت ہیں اور خصوصیت کے ساتھ شرک خفی تو خالصہ جھوٹ پر پلتا ہے اور جھوٹ شرک پر پلتا ہے۔اب آپ دیکھیں کہ آپ نظارہ میں ایک خرگوش کا تصور باندھیں جو گھاس کے ایک چھوٹے سے میدان میں اپنی جگہ سے باہر نکلتا ہے اور اس کے اردگرد جھاڑیاں ہوتی ہیں جب وہ کسی خطرے کو محسوس کرتا ہے، کسی گتے کی آواز سُنتا ہے یا شکاری پرندے کا سایہ پڑتا دیکھتا ہے تو ایک دو چھلانگیں لگا کر کسی جھاڑی میں چھپ جاتا ہے، اس کے چاروں طرف جھاڑیاں ہوتی ہیں اس لئے کہ وہ جانتا ہے کہ یہاں مجھے پناہ ملے گی اور جب تک پناہ کا یقین نہ ہو وہ اس کھلے میدان میں جرات