سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 175 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 175

175 گے۔ہاں درمیانے درجے کے نیک لوگوں میں تم بہت بڑی تعداد میں پائے جاؤ گے۔پس یہ پیشگوئی یہ بتانے کے لئے تھی کہ ہم دن بدن اور زیادہ نگران ہوں اور زیادہ توجہ اور کوشش کریں۔اپنی درمیانے درجے کی اکثریت کو اول درجے کی اکثریت میں تبدیل کرنے کی کوشش کرتے رہیں اور اس ضمن میں سب سے اہم بات سچائی کا قیام ہے اور جھوٹ سے پر ہیز ہے۔اسائیلم میں جھوٹ کا سہارا نہ لیں جھوٹ کے متعلق میں نے کہا کہ بسا اوقات بہت سے احمدی جب ان کو ضرورت پیش آتی ہے تو جھوٹ بول جاتے ہیں۔ان میں سے بہت سے ایسے ہیں جو یہاں موجود ہیں۔جب انہوں نے جرمنی آنے کے لئے بارڈر کر اس کئے ، جب عدالتوں میں پیش ہوئے ، جب اُن سے پوچھا گیا کہ کیسے آئے تھے؟ کس طرح داخل ہوئے تھے؟ پاسپورٹ دکھاؤ تو ہر قدم پر ان میں سے بہت سی تعداد ایسی ہے جنہوں نے ضرور جھوٹ بولے ہوں گے کیونکہ عمومی طور پر ملاقات کے دوران جب میں جائزے لیتا ہوں تو مجھے یہ معلوم کر کے سخت شرمندگی ہوتی ہے اور تکلیف پہنچتی ہے کہ اگر چہ میرے سامنے جھوٹ نہیں بولتے اور جھوٹ بول کر اپنے پہلے جھوٹ پر پردہ نہیں ڈالتے لیکن پہلے جھوٹ بولا ہوا ہوتا ہے۔اب یہ ایک مثال ہے جس سے آپ کو جھٹ معلوم ہو جاتا ہے کہ جماعت احمدیہ میں جھوٹ بولا تو جاتا ہے لیکن دوسروں سے بہر حال بہتر ہیں۔بعض جگہیں مقرر کی ہوئی ہیں کہ وہاں جھوٹ نہیں بولنا اور یہ بھی ہمارے ملک میں رائج ایک ایسا لغو محاورہ ہے کہ جب آپ کسی سے پوچھیں کہ سچ بول رہے ہو تو کہتے ہیں جی! ” تو اڈے سامنے جھوٹ نہیں بولتا۔بھئی جھوٹ تو خدا کے سامنے بولا جاتا ہے یا نہیں بولا جاتا۔بندوں کے ساتھ اس کا کیا تعلق ہے۔اگر جھوٹ بولو گے تو جہاں بھی بولو گے خدا کے سامنے بولو گے نہیں بولو گے تو جہاں نہیں بولو گے خدا کی خاطر نہیں بولو گے مگر چونکہ یہ رواج ہے اس لئے کچھ تھوڑی بہت حیاء اور شرم تو بہر حال موجود ہے۔بعض لوگوں کے سامنے آ کر پھر وہ کہتے ہیں ہم آپ کے سامنے سچی بات کر دیتے ہیں اور بعض دفعہ وہاں بھی کچی بات نہیں کر رہے ہوتے۔صرف محاورةُ کہتے ہیں اور کیونکہ ہمارے ملک میں اکثر یہ رواج ہے کیونکہ مجھے اس لئے علم ہے کہ اکثر لوگ وہاں اپنے جھوٹ کو پکا کرنے کے لئے اور بیچ بنا کر دکھانے کے لئے یہ بھی کہہ دیتے ہیں کہ جی! آپ کے سامنے ہم جھوٹ نہیں بول سکتے اس لئے یقین کریں کہ جو جھوٹ بول رہے ہیں وہ سچ ہے۔جماعتی ادارے اور تنظیمیں جھوٹ کو ختم کرنے کے لئے اپنی کوششوں کو تیز کریں جھوٹ اتنی گہرائی کے ساتھ ہمارے معاشرے میں رائج ہو چکا ہے، راسخ ہو چکا ہے، گہری جڑیں پکڑ چکا ہے کہ ایک دو دفعہ ہلانے سے جھوٹ کا یہ پودا اکھیڑا نہیں جائے گا بارہا مسلسل توجہ کی ضرورت ہے۔