سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 159
159 ”میری سرشت میں ناکامی کا خمیر نہیں“ بہت ہی بلند تعلیم ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے عظیم خلق پر روشنی ڈالنے والا یہ ایک بہت ہی پیارافقرہ ہے کہ:۔”میری سرشت میں نا کامی کا خمیر نہیں پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے وابستہ ہونے والوں کی سرشت میں بھی ہرگز ناکامی کا خمیر نہیں ہونا چاہئے اور یہ عزم اور ہمت بچپن ہی سے پیدا کئے جائیں تو پیدا ہوتے ہیں۔وہ لوگ جو چھوٹی چھوٹی باتوں پر ہمتیں ہار جاتے ہیں۔امتحان میں فیل ہو جائیں تو زندگی سے بیزار ہو جاتے ہیں۔کوئی زندگی کی مراد پوری نہ ہو تو ان کا سارا فلسفہ حیات ایک زلزلے میں مبتلا ہو جاتا ہے۔وہ سوچتے ہیں پتا نہیں خدا بھی ہے کہ نہیں۔ان کی چھوٹی سی کائنات تنکوں کی بنی ہوئی ہوتی ہے اور معمولی سازلزلہ بھی اس کی خاک اڑادیتا ہے۔اس لئے وہ قو میں جنہوں نے بہت بڑے بڑے دنیا میں کام کرنے ہیں ، عظیم الشان مقاصد کو حاصل کرنا ہے اور عظیم الشان ذمہ داریوں کو ادا کرنا ہے۔جن کا مشکلات کا دور چند سالوں سے تعلق نہیں رکھتا بلکہ صدیوں تک پھیلا ہوا ہے۔ہر مشکل کو انہوں نے سر کرنا ہے، ہر مصیبت کا مردانگی کے ساتھ مقابلہ کرنا ہے۔ہر زور آور دشمن سے ٹکر لینی ہے اور اس کو نا کام اور نا مراد کر کے دکھانا ہے۔ایسی قوموں کی اولادیں اگر بچپن ہی سے عزم کی تعلیم نہ پائیں تو آئندہ نسلیں پھر اس عظیم الشان کام کو سرانجام نہیں دے سکیں گی۔اس لئے بہت ہی ضروری ہے کہ جہاں نرم کلام بچے پیدا کریں، جہاں نرم دل بچے پیدا کریں ، جہاں نرم خو اولاد پیدا کریں جو دوسروں کی ادنی سی تکلیف سے بھی بے چین اور بے قرار ہو جائیں اور ان کے دل کسی دوسرے کے دل کے غم سے پگھلنا شروع ہو جائیں اس کے باوجود اس اولا د کوعزم کا پہاڑ بنادیں اور بلند ہمتوں کا ایک ایسا عظیم الشان نمونہ بنادیں کہ جس کے نتیجے میں تو میں ان سے سبق حاصل کریں۔یہ وہ پانچ بنیادی اخلاق ہیں جو میں سمجھتا ہوں کہ ہماری تنظیموں کو خصوصیت کے ساتھ اپنے تربیتی پروگرام میں پیش نظر رکھنے چاہئیں۔ان پر اگر وہ اپنے سارے منصوبوں کی بناء ڈال دیں اور سب سے زیادہ توجہ ان اخلاق کی طرف کریں تو میں سمجھتا ہوں کہ اس کا فائدہ آئندہ سو سال ہی نہیں بلکہ سینکڑوں سال تک بنی نوع انسان کو پہنچتا رہے گا کیونکہ آج کی جماعت احمد یہ اگر ان پانچ اخلاق پر قائم ہو جائے اور مضبوطی کے ساتھ قائم ہو جائے اور ان کی اولادوں کے متعلق بھی یہ یقین ہو جائے کہ یہ بھی آئندہ انہی اخلاق کی نگران اور محافظ بنی رہیں گی اور ان اخلاق کی روشنی دوسروں تک پھیلاتی رہیں گی اور پہنچاتی رہیں گی تو پھر میں یقین رکھتا ہوں کہ ہم امن کی حالت میں اپنی جان دے سکتے ہیں سکون کے ساتھ اپنی جان جان آفریں کے سپر د کر سکتے ہیں اور یقین رکھ سکتے ہیں کہ جو عظیم الشان کام ہمارے سپرد کئے گئے تھے ہم نے جہاں تک ہمیں توفیق ملی ان کو سرانجام دیا۔