سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 144
144 مجالس کا واسطہ اختیار کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔یہ نظام اس لئے بھی ضروری ہے کہ آگے مجلس خدام الاحمدیہ مثلا یا دوسری مجالس بھی ہیں ان میں تفصیلی طریق کار یہ ہے کہ ایک منتظم بیرون بنایا جاتا ہے اور منتظم بیرون کی اپنی علمی حیثیت یا جماعت سے واسطے کی حیثیت کا کام کے تجربے کی حیثیت بالعموم ایسی نہیں ہوتی کہ وہ تمام دنیا کی مجالس پر جو دن بدن پھیلتی چلی جارہی ہیں اور بڑھتی چلی جارہی ہیں اور قوی تر ہوتی جارہی ہیں ان پر نظر بھی رکھے ان کے حالات سے واقف ہو اور صحیح مشورہ صدر کو دے سکے۔اول تو اپنی ذات میں جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے معلومات کا دھارا تنگ اوپر سے صدر اور مجالس کے درمیان ایک اور واسطہ پڑ جائے جو مجلس بیرون کے سیکرٹری کا واسطہ ہو اس کو مہتم کہا جاتا ہے یا انصار اللہ میں غالباً کوئی اور نام ہے۔بہر حال اس بیچارے کو کچھ پتا لگ ہی نہیں سکتا کہ کیا ہو رہا ہے میں نے کیا فیصلے کرنے ہیں۔یا تو من وعن ہر رپورٹ کو اسی طرح قبول کرتا چلا جائے گا اور اس میں بعض غلط مشورے آئیں گے تو اس کو پتا نہیں لگے گا کہ اس کو قبول کرنا ہے یا نہیں کرنا۔چنانچہ ایسے فیصلے بعض دفعہ ہو گئے غلطی سے کہ ایک ایسا شخص جس کے متعلق خلیفہ وقت کو تو علم تھا کہ وہ ایک بیرونی خطرناک تنظیم کا نمائندہ بن کے جماعت میں داخل کیا گیا ہے لیکن اس کی تفصیل سے تحریک کو بھی علم نہیں تھا۔وہ سارے ملک کا صدر منتخب ہو جاتا ہے اور مجلس مرکزیہ کی طرف سے منظوری کی اطلاع چلی جاتی ہے یا جانے لگتی ہے تو علم میں بات آ جاتی ہے۔ایسا ایک واقعہ اس زمانے میں ہوا جب میں خود تحریک جدید میں عارضی طور پر وکیل التبشیر کے طور پر کام کر رہا تھا۔چنانچہ ایک شخص کے متعلق میرا ذاتی تاثر ( میں دورہ کر کے آیا تھا دنیا کا اپنے ذاتی طور پر کر اس کے متعلق ایسا تھا جب اس کی اطلاع ملی کہ یہ بننے لگا ہے کچھ اہم عہدیدار تو میں نے ذکر کیا حضرت خلیفۃ اسیح الثالث سے۔آپ کی معلومات اس سے بہت زیادہ تھیں جو میرا تاثر تھا آپ نے بتایا کہ سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔فوری طور پر تحریری حکم دو کہ یہ کام نہیں ہو گا اور ان کو سمجھاؤ کہ ایسے معاملات میں مشورہ کیا کریں پہلے جو بڑے اہم فیصلے ہیں۔اور بعد میں بھی ایسے اکا دکا واقعات ہوتے رہے۔تو اس وجہ سے عملاً جو قیادت ہونی چاہئے دنیا کی وہ دنیا کو نصیب نہیں ہے۔یعنی خدام الاحمدیہ ، انصار اللہ اور لجنہ کو جو ذاتی حق ہے کہ مرکزی قیادت ان کو حاصل ہو اور خلیفہ وقت براہ راست ان سے تعلق رکھتا ہو ان کے حالات پر نظر رکھتا ہو اس سے وہ محروم ہونے کی وجہ سے کاموں سے محروم رہ گئے ہیں اور إِلَّا مَا شَاءَ اللہ وہ چند مجالس جہاں خلیفہ وقت کا بار بار آنا جانا ہے یا عارضی قیام ہے وہاں خدا کے فضل سے ایک بڑی نمایاں تبدیلی پیدا ہوئی ہے اور اس کی بڑی وجہ یہی ہے کہ باوجود اس کے کہ نظام تبدیل نہیں ہوا عملاً ان مجالس نے براہ راست رابطے قائم کئے ہوئے ہیں۔اس لئے خدا کے فضل سے وہاں یہ کمزوریاں محسوس نہیں ہو رہیں مگر ایک سو بیس ممالک میں پھیلی ہوئی جماعت میں پھیلی ہوئی تنظیمیں موجودہ نظام کے مطابق تو سنبھالی جا