سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 127 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 127

127 اپنی زمینیں لے کر مسجدوں میں حاضر ہو جائے خدا کے حضور پیش کرنے کے لئے کیسے ممکن ہے کہ خدا دنیا کو یہ توفیق دے کہ ان کی زمینیں چھین لے۔پس مضمون کو ہمیشہ پیش نظر رکھیں اس میں آپ کی زندگی کا راز ہے اور زندگی کا سر چشمہ ہے اس بات میں۔اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق عطا فرمائے کہ ہم اس کی عبادت کے حق ادا کرنے والے اس کے منظور نظر بندے بنیں۔" خطبات طاہر جلد 8 صفحہ 471-472) ذیلی تنظیمیں ٹھوس منصوبہ بندی کے ذریعہ تربیتی خلا کو پُر کریں (25 اگست 1989ء) اس ضمن میں مزید غور کرتے ہوئے بعض مشوروں کے دوران میری توجہ اس طرف مبذول ہوئی کہ جماعت کی ٹھوس تربیت کی طرف جتنی توجہ ہونی چاہئے وہ ابھی تک کما حقہ نہیں ہوئی۔اس ضمن میں جب میں نے مزید غور کیا تو اس رنگ میں اس بات کو پیش کیا ہی نہیں جاسکتا۔امر واقعہ یہ ہے کہ کبھی بھی دنیا میں تربیت کا حق ادا ہو ہی نہیں ہو سکتا۔یہ ایک لامتناہی سلسلہ ہے اس کا کوئی کنارہ نہیں ہے۔اس لئے ہر مقام پر جب ہم ترقی کی راہوں میں سفر کرتے ہوئے پہنچیں گے تو یہ بات ہمیشہ پیش نظر رکھنی چاہئے آئندہ بھی ہمیشہ پیش نظر رہنی چاہئے کہ کوئی مقام بھی ہماری آخری منزل نہیں ہے اور گزشتہ سفر کے نتیجے میں جو سبق ہم نے سیکھے ہیں ان سے استفادہ کرتے ہوئے اپنے ماضی سے روشنی لیتے ہوئے مستقبل کے لئے ہمیں روشنی تلاش کرنی چاہئے اور مستقبل کے لئے زیادہ بہتر لائحہ عمل طے کرنا چاہئے۔اس لئے جب میں نے کہا کہ ہم تربیت کی طرف کما حقہ توجہ نہیں کر سکے تو میری مراد یہ نہیں تھی کہ نعوذ بالله جماعت تربیت سے غافل رہی ہے۔میری مراد یہ ہے کہ جب جس منزل پر بھی میں دیکھتا ہوں مجھے بہت سے خلا دکھائی دیتے ہیں۔اپنی ذات میں بھی اور اپنے ماحول میں بھی اور میرا یقین اور زیادہ بڑھ جاتا ہے کہ خدا کے سوا کوئی کامل نہیں ہے اور خدا کی طرف حرکت کرنا ہی کمال ہے اس لئے جماعت کو خدا کی طرف متحرک رکھنے کے لئے اور ہمیشہ جماعت کا قدم آگے بڑھانے کے لئے موثر پروگرام اور نہایت عمدہ پر حکمت منصوبے بناتے رہنا چاہئے اور اس ضمن میں ہر در جے کو لو ظ رکھنا چاہئے۔جہاں تک عمومی اخلاقی تعلیم کا تعلق ہے گزشتہ چند سالوں سے میں اپنے خطبات میں اس بات پر زور دیتارہا ہوں لیکن مجھے اپنے ماضی کے تجارب پر غور کرتے ہوئے یہ بات یاد آئی کہ ابھی بنیا دی ٹھوس تربیت