سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 121
121 سے اس کو بے نیاز بنائیں گے اتنا بہتر رنگ میں وہ قومی ذمہ داریوں کی امانت کا حق ادا کر سکے گا۔اس نصیحت کا اطلاق صرف امیر گھرانوں پر نہیں بلکہ غریب گھرانوں پر بھی ہوتا ہے۔ہر واقف زندگی گھر کو یعنی ہر گھر کو جس میں کوئی واقف زندگی ہے آج ہی یہ فیصلہ کر لینا چاہئے کہ خدا ہمیں جس معیار پر رکھے گا ہم اپنے واقف زندگی تعلق والے کو اس سے کم معیار پر نہیں رہنے دیں گے یعنی جماعت سے مطالبے کی بجائے بھائی اور بہنیں اور ماں باپ اگر زندہ ہوں اور توفیق رکھتے ہوں یا دیگر قریبی مل کر ایسا نظام بنائیں گے کہ واقف زندگی بچہ اپنے زندگی کے معیار میں اپنے گھر والوں کے ماحول اور ان کے معیار سے کم تر نہ رہے۔چنانچہ ایسے بچے جب زندگی کی دوڑ میں حصہ لیتے ہیں تو کسی قسم کے Inferiority Complex یعنی احساس کمتری کے شکار نہیں رہتے اور امانت کا حق زیادہ بہتر ادا کر سکتے ہیں۔جہاں تک بچیوں کی تعلیم کا تعلق ہے اس میں خصوصیت کے ساتھ تعلیم دینے کی تعلیم دلوانا یعنی بی ایڈ کروانا۔مطلب یہ ہے کہ ان کو استانیاں بنے کی ٹرینینگ دلوانا خواہ ان کو استانی بنانا ہو یا نہ بنانا ہوان کے لئے مفید ثابت ہو سکتا ہے۔اسی طرح لیڈی ڈاکٹر ز کی جماعت کو خدمت کے میدان میں بہت ضرورت ہے۔پھر کمپیوٹر سپیشلسٹ کی ضرورت ہے اور Typist کی ضرورت ہے اور یہ سارے کام عورتیں مردوں کے ساتھ ملے جلے بغیر سوائے ڈاکٹری کے باقی سارے کام عمدگی سے سرانجام دے سکتی ہیں۔پھر زبانوں کا ماہر بھی ان کو بنایا جائے یعنی لٹریری نقطہ نگاہ سے، ادبی نقطہ نگاہ سے ان کو زبانوں کا چوٹی کا ماہر بنانا چاہئے تاکہ وہ جماعت کی تصنیفی خدمات کر سکیں۔اس طرح اگر ہم سب اپنے آئندہ واقفین نسلوں کی نگہداشت کریں اور ان کی پرورش کریں، ان کو بہترین واقف بنانے میں مل کر جماعتی لحاظ سے اور انفرادی لحاظ سے سعی کریں تو میں امید رکھتا ہوں کہ آئندہ صدی کے اوپر جماعت احمدیہ کی اس صدی کی نسلوں کا ایک ایسا احسان ہوگا کہ جسے وہ ہمیشہ جذ به تشکر اور دعاؤں کے ساتھ یاد کریں گے۔آخر پر یہ بتانا ضروری ہے کہ سب سے زیادہ زور تربیت میں دعا پر ہونا چاہئے یعنی ان بچوں کے لئے ہمیشہ دردمندانہ دعائیں کرنا اور ان بچوں کو دعا کرنا سکھانا اور دعا کرنے کی تربیت دینا تا کہ بچپن ہی سے یہ اپنے رب سے ایک ذاتی گہرا تعلق قائم کر لیں اور اس تعلق کے پھل کھانے شروع کر دیں۔جو بچہ دعا کے ذریعے اپنے رب کے احسانات کا مشاہدہ کرنے لگتا ہے وہ بچپن ہی سے ایک ایسی روحانی شخصیت حاصل کر لیتا ہے جس کا مربی ہمیشہ خدا بنا رہتا ہے اور دن بدن اس کے اندر وہ تقدس پیدا ہونا شروع ہو جاتا ہے جو خدا سے بچے تعلق کے بغیر پیدا نہیں ہوسکتا اور دنیا کی کوئی تعلیم اور کوئی تربیت وہ اندرونی نقدس انسان کو نہیں بخش سکتی جو خدا تعالیٰ کی معرفت اور اس کے پیار اور اس کی محبت کے نتیجے میں نصیب ہوتا ہے۔پس ان بچوں کی تربیت میں دعاؤں سے بہت زیادہ کام لیں۔خود ان کے لئے دعا کریں اور ان کو دعا کرنے والے بچے بنائیں۔