سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 98 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 98

98 ہر مجلس عاملہ ماہانہ میٹنگ میں تبلیغ کے موضوع کو زیر بحث لائے خطبہ جمعہ 6 نومبر 1987ء) امراء کو یہ بات یاد رکھنی چاہئے اور ان کی مجالس عاملہ کو یہ بات یاد رکھنی چاہئے، سیکرٹریان تبلیغ کو یہ بات یاد رکھنی چاہئے۔صرف ایک دفعہ کی یا دو دفعہ کی نصیحت کافی نہیں ہے۔آپ سب جو جماعت کے عہدیدار ہیں ، آپ کا جماعت سے واسطہ روز روز کا پڑنے والا ہے۔میں ہر خطبے میں تو اس بات کو چھیڑ نہیں سکتا اور بہت سے مضامین ہیں جن کی طرف توجہ دینی پڑتی ہے۔ساری دنیا کے بہت سے مسائل ہیں جن کو باری باری زیر نظر لا کر جماعت کے سامنے رکھنا ہوتا ہے اور نہ میں بار بار یہاں آسکتا ہوں اس لئے جو عہد یدار ہیں وہ ان الزراع میں داخل ہیں جو میرے ساتھ شامل کئے گئے ہیں ان کو مسلسل توجہ کرنی چاہئے۔آپ نے دیکھا ہو گا بعض زمیندار خود کھیتوں پر حاضر نہیں رہ سکتے ان کی بڑی بڑی زمینیں ہوتی ہیں۔آتے ہیں اور چلے جاتے ہیں لیکن اچھے مینیجر رکھتے ہیں اور اچھے مینیجر پھر ان کی نصیحتوں کو یا درکھتے ہیں جو وہ آکر ہدائتیں دے کر جاتے ہیں ان پر عمل کرواتے ہیں اس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے دن بدن زمیندارہ کی حالت بہتر ہونی شروع ہو جاتی ہے اور اگر مینیجر کمزور پڑ جائیں یا بات سنیں اور بھلا دیں تو پھر وہ دورے بے کار ہو جاتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ مضمون جو ہے یہ ان سب الزراع پر صادق آتا ہے جو کسی ملک کی انتظامیہ سے تعلق رکھتے ہیں، مجلس عاملہ مرکزیہ ہو یا مقامی مجالس عاملہ ہوں کیونکہ میں نے تمام مجالس عاملہ کی ذمہ داری لگائی ہے کہ ہر مہینے وہ تبلیغ کے موضوع کو ضرور زیر بحث لائیں اور کوئی مجلس عاملہ ایسی نہ ہو جس میں مہینے ایک بار ایجنڈے پر یہ مضمون نہ ہو کہ ہم نے تبلیغ کو زیر نظر لانا ہے اور دیکھنا ہے کہ ہم کیا کوششیں کر رہے ہیں؟ ان کوششوں کا کیا نتیجہ نکلا رہا ہے؟ کتنے نئے احمدیوں کو ہم نے داعی الی اللہ بنا دیا ہے اور ایک نیا اعزاز بخشا ہے داعی الی اللہ بنا کے ان لوگوں میں شامل کر دیا ہے جن کا قرآن کریم میں ذکر ہے اور کتنے داعی الی اللہ ہیں جو کمزور تھے یا ان کو طریقہ نہیں آتا تھا ان کو ہم نے طریقے سمجھائے ان کی کمزوری کو دور کیا ان کی مدد کی یہاں تک کہ اللہ کے فضل کے ساتھ وہ پہلے سے بہتر داعی الی اللہ بن گئے۔اس قسم کے مضامین پر غور کرنے کے لئے میں نے ہدایت کی تھی کہ ہر مجلس عاملہ ایک دفعہ اسے زیر غور لائے لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ ایسا نہیں ہوا۔بہت کم ممالک نے سنجیدگی سے اس ہدایت کی طرف توجہ دی ہے اور یہ میں آپ کو بتا دیتا ہوں کہ اگر آپ خلیفہ وقت کی ہدایت ، میں ہوں یا کوئی بھی ہو جو بھی اس منصب پر فائز ہوتا ہے خواہ میرے جیسا کمزور ہی کیوں نہ ہواگر اس کی ہدایات کو آپ نظر انداز کریں یا تخفیف کی نظر سے دیکھیں گے تو آپ سے برکتیں اُٹھ جائیں گی۔