سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 97 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 97

97 الفاظ میں۔آپ قوموں کو فتح کرنے کے لئے پیدا کئے گئے ہیں لیکن قوموں کو محبت اور پیار کے غالب جذ بے اور دعاؤں کے ذریعے آپ نے فتح کرنا ہے۔یہ سلیقے سیکھنے ہیں اور یہ سلیقے اپنی اولا دکو سکھائیں۔دیکھتے دیکھتے جماعت کی کایا پلٹ جائے گی نئی زندگی پیدا ہوگی ،نئی روحانیت آپ کو عطا ہوگی۔پھر یہ شکایتیں نہیں ہوں گی کہ فلاں احمدی باہر سے آیا تھا اس نے فلاں گندگی شروع کر دی، فلاں باتیں اس نے اختیار کر لیں جماعت کی بدنامی کا موجب بنا۔ایسی جماعت جو پھیل رہی ہو چاروں طرف جہاں نئے نئے لوگ داخل ہو رہے ہوں وہاں تو اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ ایسا روحانی ماحول پیدا ہو جاتا ہے کہ تربیت کی ضرورت ہی کوئی نہیں پڑتی ، تربیت خدا خود کر نے لگ جاتا ہے۔پس میں امید رکھتا ہوں کے ان باتوں کو آپ پلے باندھیں گے اور یہ نہیں ہو گا کہ میں اگلے سال آؤں تو پھر ویسی ہی حالت میں دیکھوں۔بدلتی ہوئی حالتوں میں زندہ قومیں چلا کرتی ہیں، ایک حال پر نہیں کھڑی رہا کرتیں۔اس لئے آپ کو ہمیشہ ہر لحاظ سے آگے سے ترقی کرنی چاہئے اور میں جانتا ہوں کہ ایک سال میں ناممکن ہے سوائے اس کے کہ اللہ معجزہ دکھائے ، ناممکن ہے کہ نوے فیصد آدمی جو داعی الی اللہ نہیں وہ داعی الی اللہ بن جائیں لیکن یہ ضرور ممکن ہے کہ داعین الی اللہ کی تعداد دگنی ہو جائے اگر دس تھے تو میں ہو جائیں اگر ہمیں تھے تو چالیس ہو جائیں۔پس اپنی توفیق کے مطابق کام کریں آپ کی توفیق سے بڑھ کر میں آپ پر بوجھ نہیں ڈالتا کیونکہ خدا بھی نہیں بوجھ ڈالتا لیکن اگر آپ اپنی توفیق کے مطابق کام کریں تو خدا نے آپ کو بہت بڑے بڑے بوجھ اُٹھانے کے قابل بنایا ہے۔اگر خدا نے آپ کو بڑے بوجھ اُٹھانے کے قابل نہ بنایا ہوتا تو ساری دنیا کا بوجھ ہر گز آپ کے کندھوں پر نہ ڈالتا۔اپنی عظمت کو سمجھیں، اپنی خوابیدہ قابلیتوں کو سمجھیں ، آپ میں وہ طاقتیں موجود ہیں جنہوں نے دنیا کی تقدیر بدلنی ہے۔یہ احساس خود اعتمادی پیدا کریں۔پھر جب دعا کے ذریعے اور تو کل کے ذریعے آپ کام کریں گے تو انشاء اللہ عظیم الشان کام آپ دنیا میں کر کے دکھائیں گے۔اللہ اس کی توفیق عطا فرمائے۔آمین۔" خطبات طاہر جلد 6 صفحہ 561-573)