سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 96 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 96

96 تبلیغ میں زبان کا اثر انداز ہونا۔۔۔۔۔تو ایک عام آدمی جس کو ایک زبان ہی نہیں آتی، اس کو زیادہ دینی علم بھی نہیں ہے اس کو خدا تعالیٰ نے یہ توفیق عطا فرما دی اس لئے کہ اس کا جذ بہ خلوص سچا تھا، اس لئے کہ اس کے دل کے بے قرار تمنا تھی ، اس لئے کہ وہ دعا کرتا تھا اور پھر ایک خوبی جو ہر داعی الی اللہ میں ہونی ضروری ہے وہ اس میں موجود تھی کہ زبان کا میٹھا تھا۔علم سارا بیکار ہو جاتا ہے اگر ایک انسان مشتعل مزاج ہو، اگر مغلوب الغضب ہو تو دنیا کے کسی کام کا بھی نہیں رہتا۔خصوصا اس وقت جب غیر سے مقابلہ ہواُس وقت تو بہت ہی زیادہ تحمل ہونا چاہئے۔اپنے جذبات پر کنٹرول اور حوصلے سے اس کی دشمنی کی بات کو سنا اور پھر محبت اور پیار سے اس کو سمجھا نا اور جواب دینا یہ وہ ایسا ایک سلیقہ ہے تبلیغ کا جو اگر کسی کو آ جائے تو بہت بڑے بڑے عالموں پر وہ حاوی ہوسکتا ہے۔تبلیغ میں دماغ سے زیادہ دل جیتنے ہوتے ہیں اس نقطے کو یا د رکھنا چاہئے۔جب دل جیت لئے تو تین چوتھائی کام وہیں ختم ہو گیا پھر دماغ جیتنا کوئی مشکل نہیں ہے کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے ایسا عظیم اور ایسا غالب کلام عطا کیا ہے کہ وہ علم کلام بڑوں بڑوں پر غالب آ جاتا ہے۔صرف دشمنی کا جذ بہ یا نفرت اس کے درمیان میں حائل ہوتی ہے آپ اگر کسی سے محبت اور پیار سے اس کا دل جیت لیں تو جو باتیں اس کے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کلام کے درمیان حائل تھیں ، وہ دیوار جو بیچ میں کھڑی تھی وہ ختم ہو جاتی ہے۔پس اپنی زبان کو سلیقہ دیں، اپنے دل کو سلیقہ دیں۔دل میں مٹھاس پیدا کریں اور زبان سے جو بات نکلے وہ دل کی مٹھاس ہو۔اپنے اندر عجز اور انکسار پیدا کریں تو پھر دیکھیں اللہ تعالیٰ کے فضل سے آپ کی دعوت الی اللہ کو کتنی عظیم الشان برکت ملتی ہے۔دیکھتے دیکھتے دل فتح ہونے شروع ہو جائیں گے اور سب سے آخر پر لیکن سب سے اہم یہ کہ دعا کی طرف میں پھر متوجہ کرتا ہوں۔تبلیغ میں دعا کا کردار دعوت الی اللہ کی ہر منزل پر دعا کی عادت ڈالیں۔تبلیغ کے دوران دعا کریں گھر جا کر دعا کریں، اپنے بچوں کو کہیں کہ دعا کرو۔اگر آپ اس سنجیدگی کے ساتھ دعوت الی اللہ کی طرف توجہ کریں گے اور اپنا دل بیچ میں ڈال دیں گے، اپنی معصوم اولاد کو بھی ساتھ شامل کریں گے اور جذبے کے ساتھ ان کو کہیں گے کہ خدا کے لئے میری مدد کر و۔میرا دل چاہتا ہے مگر میں مجبور اور بے اختیار ہوں میرا بس نہیں چل رہا۔پھر دیکھیں کہ خدا ان معصوم بچوں کی دعائیں آپ کے ساتھ شامل کرے گا۔کتنی عظیم الشان طاقت پیدا ہو جائے گی آپ کے