سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 444
444 ہے لیکن کوئی تضاد نہیں ہے۔ایک فرائض کی دنیا ہے اس میں امیر کا فرض ہے کہ ان سب تقاضوں کو پورا کرے جو امیر کے اوپر لازماً عائد ہوتے ہیں اور جماعت کے ایک خاص رنگ کا سلوک جس کی تفصیل میں آپ کو بتاؤں گا اس طرح وہ سلوک کرے اور کسی سے کوئی امتیاز نہ کرے لیکن کس حد تک وہ ان کی بد تمیزیوں کو برداشت کرے گا ، کس حد تک ان کے دکھوں پر شکوہ نہ کرتے ہوئے دعا کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے ان کی مدد چاہے یہ وہ احسان والا مضمون ہے جس کے متعلق ہر شخص کے اپنے اپنے حالات ہیں ، اپنی اپنی صلاحتیں ہیں۔ان صلاحیتوں کے علاوہ ہر شخص کا پس منظر الگ الگ ہے، اس کا خاندان الگ الگ ہے۔جس خاندان میں وہ پل کر بڑا ہوا ہے اس کے روز مرہ کے معاملات کے طریق اس پر اثر انداز ہیں، اس کی طبیعت پر ایک چھاپ لگ گئی ہے۔یہ خیال کر لینا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کا حوالہ دے کر اچانک اس کو نرم رو بنا دو گے یہ ممکن نہیں ہے۔لیکن اگر وہ یہ کہے کہ میں چونکہ سخت رو ہوں اور میں نے اپنے ماں باپ سے یہ سختیاں سیکھی ہوئی ہیں اس لئے مجھے حوالہ نہ دوسنت کا یہ اس کی فرض ناشناسی ہوگی بلکہ گستاخی اور بدتمیزی ہوگی۔اس کا صرف یہ کام ہے کہ وہاں میں نے سن لیا ، میں ادب کرتا ہوں ، احترام کرتا ہوں جو تم نے حوالہ دیا ہے بہت بڑا ہے۔میری مجال نہیں ہے کہ اس کے خلاف کچھ کہہ سکوں مگر تم بھی دعا کرو میں بھی کوشش کروں گا کہ آئندہ اس پہلو سے بہتر نمونہ دکھاسکوں۔نظام جماعت کی حفاظت اور اس کے استحکام و بقا کے لئے حسن واحسان کے تقاضے پورے کرنا ضروری ہے پس جو جو فرائض جس جس پر عائد ہوتے ہیں ، جو جو حسن واحسان کے تقاضے جس جس پر عائد ہوتے ہیں ان کی کوشش کرنا اور دیانتداری سے کوشش کرنا نظام جماعت کی حفاظت کے لئے اور اس کے استحکام کے علاوہ اس کی بقاء اور ہمیشہ ہمیش کے لئے جاری رکھنے کے لئے بڑا ضروری ہے، بہت ضروری ہے۔یہ باریک پہلو ہیں جن کے اندر نظام جماعت کی جان مضمر ہے۔ان باریک پہلوؤں سے نظر اٹھائیں گے تو اسی حد تک نظام جماعت بیمار پڑنا شروع ہو جائے گا۔اس کے اندر ایسی کمزوریوں کی علامتیں ظاہر ہو جائیں گی جو رفتہ رفتہ پھر ایسے نظاموں کو پارہ پارہ کر دیا کرتی ہیں۔تو میں جن باتوں کی طرف آپ کو توجہ دلا رہا ہوں ان کو معمولی نہ سمجھیں۔میری نظر آئندہ لمبے عرصے تک ہے۔میری یہ تمنا ہے کہ جماعت احمد یہ ان اعلیٰ اخلاق پر اور ان اقدار پر اتنی مضبوطی سے قائم ہو جائے کم سے کم ان اقدار پر جو نظام جماعت کے لئے لازم ہے کہ پھر ہم اطمینان کی حالت میں اپنی جانیں خدا کے حضور سپر د کر سکیں۔ہم کہہ سکیں کہ اے خدا جہاں تک ہم میں طاقت تھی ، جہاں تک کوشش تھی ہم نے تیرے نظام کو زندہ رکھنے کے لئے اپنی زندگیوں کی قربانیاں پیش کر دی ہیں۔اور ہم خوشی سے تیرے حضور آرہے ہیں یہ کہتے ہوئے ، جانتے ہوئے کہ یہ جماعت اب ایک نسل میں