سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 349
349 تمہیں متکبر کر دیں اور جھوٹی ملکیت کی تمنائیں تمہارے دلوں میں پیدا کریں اور نہ عارضی تکلیف دہ مقامات تم پر نفسیاتی لحاظ سے غالب آکر تمہیں مایوس کر دیں اور تم سمجھو کہ تمہارا سب کچھ ہاتھ سے جاتارہا۔مسافر کی طرح رہو گے تو آرام کی زندگی کے ساتھ بھی تمہارے تعلقات درست رہیں گے اور تکلیف کی زندگی کے ساتھ بھی تمہارے تعلقات درست رہیں گے۔پھر حضرت سہیل بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا۔اے اللہ کے رسول! مجھے کوئی ایسا کام بتائیے کہ جب میں اسے کروں تو اللہ تعالیٰ مجھ سے محبت کرنے لگے اور باقی لوگ بھی مجھے چاہنے لگیں۔بڑا مشکل سوال ہے۔انسان یہ خیال کرتا ہے کہ ایسا کام کروں کہ اللہ محبت کرے تو دنیا سے تعلق توڑنا پڑے گا اور ایسا کام کروں کہ دنیا مجھے چاہنے لگے تو گویا اللہ سے تعلق توڑنا پڑے گا۔کتنا مشکل سوال تھا جو بظاہر کیا گیا لیکن جواب دیکھیں۔کیس عارفانہ کیسا عظیم جواب ہے۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کا جواب آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں۔دنیا سے بے رغبت اور بے نیاز ہو جاؤ۔اللہ تعالیٰ تجھ سے محبت کرنے لگے گا اور یہی فعل تمہارے لئے لوگوں کی محبت بھی پیدا کر دے گا۔یہ فرمایا جو کچھ لوگوں کے پاس ہے اس کی خواہش چھوڑ دو تو لوگ تجھ سے محبت کرنے لگیں گے۔(ابن ماجہ کتاب الذهد حدیث نمبر : 4092) کتنا حیرت انگیز عارفانہ جواب ہے۔اس کو پڑھ کر عقل ورطۂ حیرت میں ڈوب جاتی ہے کہ کیسا برجستہ جواب اللہ تعالیٰ نے فوراً آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو سمجھایا ہے جو اس سوال کے دونوں پہلوؤں پر برابر اطلاق پاتا ہے اور ایک ہی نیکی ہے جس کے اجر کے طور پر اللہ بھی محبت کرتا ہے اور بندے بھی محبت کرتے ہیں۔ہمارے تعلقات کے جتنے بھی دائرے ہیں، دنیا میں جتنے فساد ہیں ان کی جڑ دنیا کی محبت اور اس رنگ میں محبت ہے کہ دوسرے کے مال پر حرص کی نگاہیں پڑتی ہیں جو اپنا حق نہیں ہے وہ لینے کی تمنا دل میں پیدا ہوتی ہے۔اگر کسی شخص کو کامل یقین ہو جائے کہ اس شخص کو میری وجاہت میں، میرے اموال میں، میری اچھی چیزوں میں ایسی دلچسپی ہرگز نہیں کہ انہیں اپنا لے، اس حد تک دلچسپی ہے کہ یہ چیزیں زیادہ ہوں تو یہ خوش ہو۔ایسے شخص سے لازماً وہ شخص محبت کرے گا جس کو اس کی طرف سے اسی کی طرح کا کامل اطمینان نصیب ہو اور کامل بے خوفی عطا ہو جائے۔دراصل حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لفظ مسلم ہی کی یہ تعریف فرمائی ہے اور انسان کا اسلام کامل ہو نہیں سکتا جب تک اس سے دنیا بے خوف نہ ہو جائے اور تمام دنیا کو اس کی طرف سے حقیقت میں سلامتی کا پیغام نہ پہنچے۔یہ کیسے ممکن ہے اس کا یہی طریق ہے کہ دنیا کی محبت دل پر اس طرح سرد ہو جائے کہ جو کسی کی ملکیت ہے وہ اس کو مبارک رہے اور اس کو حاصل کرنے کی کوئی تمنا کوئی خیال دل میں پیدا نہ ہو اور جہاں تک اللہ کی ذات کا تعلق ہے دنیا کا وجود اس کے سامنے ایک مردار کے طور پر دکھائی دے اور