سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 348 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 348

348 کی روشنی میں ہم اس مضمون کو زیادہ بہتر رنگ میں سمجھ سکتے ہیں۔ترمذی۔کتاب الزھد میں حضرت عبد اللہ بن مسعود کی روایت ہے کہ ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم چٹائی پر سور ہے تھے جب اٹھے تو چٹائی کے نشان پہلو مبارک پر نظر آئے۔ہم نے عرض کیا۔اے اللہ کے رسول ! ہم آپ کے لئے نرم سا گدیلہ نہ بنادیں۔اگر ایک نرم سا گدیلہ ہم آپ کے لئے بنا دیں تو کیا اچھا نہ ہو؟ آپ نے فرمایا: مجھے دنیا اور اس کے آراموں سے کیا تعلق؟ میں اس دنیا میں اس شتر سوار کی طرح ہوں جو ایک درخت کے نیچے ستانے کے لئے اترا اور پھر شام کے وقت اس کو چھوڑ کر آگے چل کھڑا ہوا۔( نرمندی کتاب الذهد حدیث نمبر : 2299) یہ عجیب مثال ہے۔آپ سفر کرتے ہیں تو آپ کو بہت سی چیزیں اچھی بھی لگتی ہیں۔سفر کی مثال سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ چیزوں کا پسند آنا منع نہیں ہے۔آرام کی بھی ضرورت پڑتی ہے۔کئی سایہ دار اشجار راہ میں آپ کی مہمانی کے لئے آپ کو آرام پہنچانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے پیدا فرما رکھے ہیں۔لیکن سفر کی حالتوں پر غور کر کے دیکھیں وہ سب تعلقات عارضی دکھائی دیتے ہیں اور انسان کسی جگہ اپنی منزل بنا کر ٹھہر نہیں جایا کرتا۔اچھے مقامات بھی آتے ہیں، برے مقامات بھی آتے ہیں، سبزہ زاروں میں چشمے بھی بہہ رہے ہوتے ہیں میٹھے پانی بھی مہیا ہوتے ہیں۔صحراؤں میں پیاس کی تلخیاں بھی برادشت کی جاتی ہیں اور کئی قسم کی مصیبتیں ہیں لیکن ایک مسافر جب ان سے گزرتا ہے تو نہ تکلیفیں ہمیشہ کے لئے اس کو مغلوب کر دیتی ہیں یا مایوس کرسکتی ہیں، نہ عارضی لذتیں اس کے قدم تھام سکتی ہیں۔وہ سمجھتا ہے کہ یہ لذتیں بھی عارضی ہیں یہ میرا اصل مقام نہیں ہے اور یہ تکلیفیں بھی آئیں اور چلی گئیں مگر میری منزل تو کہیں اور ہے۔پس ہمیشہ منزل کا خیال اس کے دامنگیر رہتا ہے اور سفر کے تعلقات کبھی بھی دائمی نہیں بن سکتے۔اور مجھے یاد ہے بچپن میں چونکہ مجھے پہاڑوں پر جانے کا بہت شوق تھا۔ہمالہ کے خوبصورت پہاڑوں پر جو ایک بہت وسیع سلسلہ ہے جب بھی جاتا تھا اور جب سکول کی چھٹیوں کے دن ختم ہورہے ہوتے تھے اور واپس جانا ہوتا تھا تو مجھے بہادر شاہ ظفر کا یہ شعر یاد آ جاتا تھا اور اکثر ان جگہوں پر بیٹھ کر یہ شعر گنگنا کر میں بہت لذتیں محسوس کرتا تھا اور وہ شعر یہ ہے کہ جو چمن سے گزرے تو اے صبا تو یہ کہنا بلبل زار سے کہ خزاں کے دن بھی قریب ہیں نہ لگانا دل کو بہار سے دنیا میں ایک مسافر کی طرح رہو پس انسان کے لئے خواہ خوبصورت جگہیں ہوں یا تکلیف دہ جگہیں ، بہار کے موسم ہوں یا خزاں کے موسم ہوں ، پیغام واحد یہی ہے جو حضرت اقدس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا ہے کہ نہ وقتی آرام