سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 282
282 صاحب، صاحبزادہ عبدالسلام صاحب، صاحبزادہ عبدالرشید صاحب کے اور ان کے بہنوں بھائیوں کے والد تھے اور صوبہ سرحد کا بہت ہی معزز خاندان تھا اور ان کے نیک اثرات بڑی مدت تک سارے علاقے پر قائم رہے اور اس خاندان کی عزتیں رہیں۔اللہ بہتر جانتا ہے کہ پھر کیوں اور کیا ادبار آیا کہ بظاہر بچے مخلص بھی ہیں لیکن پھر بھی وہ اثر ورسوخ باقی نہیں رہا کوئی اندرونی کمزوری ایسی ہوگئی جس کے نتیجہ میں یہ رسوخ مٹ گئے ورنہ اللہ تعالیٰ نیک اثرات کو مٹنے نہیں دیا کرتا جب تک انسان کے اندر کوئی خامیاں نہ پیدا ہو جائیں اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ کیا ہوا لیکن ان کو کوشش کرنی چاہئے کہ اپنے بزرگ نیک آباء کی اعلیٰ رسموں کو مضبوطی۔دوبارہ اختیار کریں اور زندہ کریں اور پھر دیکھیں کہ دنیوی اثر خود بخود غلاموں کی طرح پیچھے چلا آئے گا۔دنیا وی اثر کی خاطر نہیں کرنا بلکہ قرآنی بیان کے مطابق اُن آباء کے ذکر کو زندہ کرنا ہے جن کا ذکر قرآن زندہ فرماتا ہے وہ ذکر زندہ کرنا ہے جو ذکر الہی کی طرف لے جاتا ہے اور پھر أَشَدَّ ذِكْرًا بن کر خدا کی یاد میں منتقل ہو جاتا ہے۔دنیا کے اثرات اور دنیا کے رسوخ تو پھر غلاموں اور لونڈیوں کی طرح پیچھے پیچھے چلتے ہیں انہوں نے تو آنا ہی ہے۔" پھر فرماتے ہیں کہ " اسی طرح دلاور خان صاحب ہیں، محمد ا کرم صاحب ہیں، محمد اکبر صاحب ہیں، احیاء الدین صاحب ہیں (یہاں جنرل احیاء الدین مراد ہیں)، محمد علی خان صاحب ہیں، ملک عادل شاہ صاحب ہیں، امیر اللہ خان صاحب ہیں، عبدالحمید صاحب والے ہیں۔گویا چند سواحمدیوں میں سے ایک درجن کے قریب ایسے احمدی ہیں جو بھاری اثر و رسوخ رکھنے والے خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں اس نسبت کے لحاظ سے باقی ہندوستان میں با اثر خاندانوں میں سے کم احمدی ہوئے ہیں۔" (الفضل قادیان 9 دسمبر 1944 ء) احمدیت کی صوبہ سرحد میں تاریخ، جماعت احمدیہ کے آغاز کے ساتھ اکٹھی شروع ہوتی ہے پہلے صحابی جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ہاتھ پر 1889ء میں بیعت کی اور لدھیانہ کی بیعت میں شامل ہوئے ان کا نام حضرت مولوی ابوالخیر عبداللہ صاحب تنگے براہ تھا۔یہ تنگے براہ جگہ کا نام ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ان کی نہ صرف بیعت لی بلکہ ان کو آگے بیعت لینے کی اجازت دی اور اپنا نمائندہ مقررفرمایا کہ میں تمہیں اجازت دیتا ہوں کہ میری نمائندگی میں میری بیعت لوگوں سے لیا کرو۔ان کے آگے کوئی اولاد نہیں تھی اور اس میں یہ بھی اللہ تعالیٰ کا خاص احسان تھا کہ ان کو اللہ تعالیٰ نے روحانی اولا د کثرت سے عطا فرما دی اور جسمانی اولاد کی کمی اس طرح پوری ہوگئی کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام اور آپ کی روحانی اولاد کے درمیان ایک واسطہ بن گئے۔دیگر صحابہ حضرت مسیح موعود علیہ