سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 229
229 وَاجْعَلْ لِي مِن لَّدُنْكَ سُلْطنًا نَّصِيرًا (بنی اسرائیل :81) اس کا مطلب یہ ہے کہ اے خدا! ہم جب تیرے نزدیک اس لائق ہوں کہ اعلیٰ مرتبے تک پہنچیں اور تو ہمیں اس اعلیٰ مرتبے میں داخل فرما دے تو وہاں ٹھہرائے رکھنا تو مقصود نہیں ہے۔ہم تجھ سے یہی توقع رکھتے ہیں کہ تو مزید اگلے درجے کی طرف ہمارے قدم بڑھائے گا اور ایک ہی مرتبے پر نہیں ٹھہرے رہیں گے۔اَدْخِلْنِی مُدْخَلَ صِدْقٍ کے ساتھ ہی یہ عرض کیا وَ أَخْرِجْنِي مُخْرَجَ صِدْقٍ سچائی کے ساتھ اس مقام پر پہنچا اور سچائی کے ساتھ اس سے نکال لے اور ایک اور اعلیٰ مقام تک پہنچا دے اس کے لئے مددگار کی ضرورت ہے۔یہ وہ مضمون ہے جو قرآن کریم نے سمجھایا ہے۔وَ اجْعَلْ لِي مِن لَّدُنْكَ سُلْطنًا نَّصِيرًا - روحانی مراتب ہوں یا علمی مراتب ہوں یا دنیاوی کوششوں کے ذریعہ حاصل ہونے والے مراتب ہوں سب جگہ ایک سُلْطنًا نَّصِيرًا کی ضرورت ہے جو ہر شخص کو پیش آتی ہے۔انبیاء کو بھی پیش آتی ہے۔انبیاء کے روحانی مراتب کے لئے ان کو جبرائیل سُلْطنًا نَّصِيرًا کے طور پر عطا کیا جاتا ہے روح القدس عطا کی جاتی ہے اور دین کے دیگر مشاغل ہیں اور دیگر مقاصد کو پورا کرنے کے لئے فرشتوں کے علاوہ انسانی فرشتے بھی مہیا کئے جاتے ہیں اور ان کے لئے ابو بکر اور عمر اور عثمان علی پیدا کئے جاتے ہیں۔تو آپ کو بھی سُلطنًا نَّصِيرًا کی بہر حال ضرورت ہے اور سُلْطنًا نَّصِيرًا اندرونی بھی ہوتا ہے اور بیرونی بھی۔اندرونی طور پر تو چند مثالیں میں نے دیں۔بیرونی طور پر خدا تعالیٰ غیروں کے دلوں میں بھی اپنے پاک بندوں کی مدد کے لئے تحریک فرما دیتا ہے اور اچانک ضرورت کے وقت ایسی جگہ سے مدد گار مہیا ہو جاتے ہیں جن کے متعلق انسان وہم و گمان بھی نہیں کر سکتا تو اس مضمون کو صرف دعا کے طور پر ادا نہیں کرنا بلکہ اس کی حکمت کو سمجھ کر اس پر عمل کرنا ضروری ہے۔عہدیداران کو بھی سلطان نصیر مہیا کریں پس آپ جب کسی عہدیدار کو تیار کرتے ہیں تو رفتہ رفتہ اس کو سُلْطنًا نَّصِيرًا مہیا کریں یا اس میں یہ صلاحیت پیدا کرنے کی کوشش کریں کہ نو جوانوں میں سے بعض دفعہ ایسے بوڑھوں میں سے بھی بہت بڑے مددگار مل جاتے ہیں جو ریٹائر ہو گئے ہیں، اپنے کاموں سے فارغ ہوگئے ہیں اور ان کو زندگی کا کوئی اور مشغلہ در پیش نہیں اور اگر جماعت ان سے فائدہ نہ اٹھائے تو وہ ضائع ہوکر رفتہ رفتہ ایک بیکاری کی زندگی میں خدا کے حضور حاضر ہوں گے اور کوئی مومن پسند نہیں کرتا کہ یہ بے کاری کی حالت میں اپنے رب کے پاس جائے۔پس ایسے بوڑھے جو فارغ ہوں ان میں بعض دفعہ خدا تعالیٰ یہ تحریک پیدا فرماتا ہے اور یہ بھی دعاؤں