سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 216
216 کر بیدار ہو جاتا ہے اور ان مضامین کو پڑھنے کے باوجود جن کے متعلق پہلے علم ہوتا ہے کہ کیا ہیں پھر بھی ہمیشہ نئی روشنی ملتی ہے، ہمیشہ نئی روحانی لذتیں عطا ہوتی ہیں۔تو کہنے والے کی بات کس نے کہی یہ اس لئے بھی اثر کرتی ہے کہ اس کا ایک مرتبہ اور مقام ہے جو اپنے دل کو بھاتا ہے۔اپنے دل کو پیارا لگتا ہے اور پیار کے نتیجہ میں بات میں زیادہ اثر پیدا ہو جاتا ہے اور دوسرے یہ کہ جو کہنے والے خدا کے زیادہ قریب ہیں ان کی باتیں بھی خدا کے زیادہ قریب ہوتی ہیں اور ان میں اثر بھی نسبتاً زیادہ ہوتا ہے۔پس ہر خلیفہ کے وقت میں جو اس زمانے کے حالات ہیں ان کے متعلق جو خلیفہ وقت کی نصیحت ہے وہ لازماً دوسری نصیحتوں سے زیادہ مؤثر ہوگی۔اس تعلق کی بناء پر بھی اور اس وجہ سے بھی کہ خدا تعالیٰ نے جو ذمہ داری اس کے سپرد کی ہوتی ہے خود اس کے نتیجہ میں اس کو روشنی عطا کرتا ہے۔خلیفہ وقت کی باتوں کو تخفیف کی نظر سے نہ دیکھیں پس پہلی نصیحت تو یہ ہے کہ ان حکمت کی باتوں کو سمجھیں اور انہیں تخفیف کی نظر سے نہ دیکھیں بلکہ حتی المقدور کوشش کریں کہ پرانے دبے ہوئے ریکارڈ سے ان ٹیسٹس کو یا ویڈیوز کو یا تحریروں کو نکالیں اور اگر ساری جماعت کو یکدفعہ ان باتوں سے روشناس نہیں کرا سکتے کیونکہ یہ بہت مشکل کام ہے میں جانتا ہوں، میں نے ہر میدان میں عملی کام کر کے دیکھے ہوئے ہیں کہنا آسان ہے کرنا اتنا آسان نہیں ہوا کرتا مگر یہ ضروری ہے کہ ہر مشکل سے مشکل کام بھی کچھ نہ کچھ ضرور کیا جاسکتا ہے۔پس میں یہ تقاضا نہیں کرتا کہ یہ ساری باتیں آنا فانا کر دکھائیں مگر آپ کے پروگرام میں ان کو ایک اہمیت حاصل ہونی چاہئے۔آپ کے پروگرام میں ان کو ایک اولیت نصیب ہونی چاہئے اور اس کے نتیجہ میں پھر ہر وقت جائزہ لیتے رہنا چاہئے کہ کتنے احباب جماعت تک جو تبلیغ کے کاموں میں متعلق ہو رہے ہیں یہ باتیں خلیفہ وقت کی آواز میں اسی کی زبان سے پہنچائی جا چکی ہیں۔اب اس کے لئے ایک نظام مقرر کرنا پڑے گا امیر کے لئے ممکن ہی نہیں ہے کہ تمام ذمہ داریاں ادا کرنے کے علاوہ ہر وقت اس قسم کے تفصیلی مضامین کی بھی نگرانی کرے لیکن آخری نگرانی بہر حال اُسے کرنی ہے۔جہاں امیر کی آنکھ غافل ہوئی وہاں ہر طرف اندھیرا ہو جائے گا اس لئے امیر کے لئے ضروری ہے کہ ایسا نظام مقرر کرے کہ اس کے مددگار اور اس کے نصیر پید اہوں اور جب میں یہ کہتا ہوں تو معا قرآن کریم کی وہ آیت پھر ذہن میں اُبھرتی ہے کہ وہ دعا اس موقعہ پر بہت ہی ضروری ہے۔عہد یداران اس دعا کے ساتھ اپنے کام کا آغاز کریں رَبِّ ادْخِلْنِي مُدْخَلَ صِدْقٍ وَ أَخْرِجْنِي مُخْرَجَ صِدْقٍ وَاجْعَلْ لِي مِنْ لَدُنْكَ سُلْطنًا نَصِيرًا (بنی اسرائیل : 81) کیونکہ اس دُعا کا تعلق ظاہری سفر سے بہت زیادہ