سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 188 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 188

188 جاتی ہے اس کی بات میں گہرا اثر رکھا جاتا ہے۔پس یہ دو باتیں جو میں نے آپ کو بتائی ہیں ان پر آپ قائم ہو جائیں اور پھر تبلیغ کریں اور درد دل سے تبلیغ کریں۔اچھے دوستوں کو تلاش کریں اور ان کے ساتھ تعلقات بڑھائیں کیونکہ تبلیغ کا ایک اور بھی بہت اہم گر ہے جسے آپ کو لازماً سیکھنا چاہئے کہ تبلیغ رستہ چلتے پیج کا چھٹا دینے کا نام نہیں ہے بلکہ بڑی گہری حکمت کے ساتھ ایسی کاشت کا نام تبلیغ ہے جس کی انسان پھر مسلسل حفاظت کرتا ہے جو اس کے اپنے دائرہ اختیار میں ہوتی ہے ورنہ بیج پھیلانا تو کوئی تبلیغ نہیں ہے۔آپ دنیا میں زرخیز سے زرخیز علاقے میں بیج پھیلاتے چلے جائیں، پیچھے پیچھے پرندے اس بیچ کو چگتے چلے جائیں گے۔جانور اس کو آ کر ضائع کرتے چلے جائیں گے کبھی پانی کا فقدان ہوگا کبھی کسی اور چیز کا نقصان ہوگا اور جو بیج آپ پھیلائیں گے وہ پیچھے سے ضائع ہوتا چلا جائے گا لیکن وہ بیج کام کا بیج ہوا کرتا ہے جسے ایک انسان اپنے کھیت میں اگا تا ہے جو اس کے قبضے میں ہوتا ہے۔اس کی حفاظت کرنا جانتا ہے روز اسکی پرورش کرتا ہے اس کے ساتھ مانوس ہو جاتا ہے اس کو اپنے ساتھ مانوس کرتا ہے اور یہی وہ سچی تبلیغ ہے جو پھل دیتی ہے۔“ خطبات طاہر جلد 9 صفحہ 536-543) تمام کام خدا کے فضل سے ہوں گے، اپنا اور اپنے ماتحتوں کے تقومی کے معیار کو بلند کریں مجلس انصاراللہ یو کے سالانہ اجتماع کے موقعہ پر خطبہ جمعہ 21 ستمبر 1990ء) " آج جمعۃ المبارک کے دن مجلس انصار اللہ UK کا سالانہ اجتماع منعقد ہو رہا ہے اور اس میں شرکت کے لئے یورپ کی بعض دوسری مجالس کے نمائندگان بھی تشریف لائے ہوئے ہیں۔اسی طرح آج ہی ماریشس کی جماعت کا سالانہ جلسہ منعقد ہورہا ہے اور امیر صاحب ماریشس کا مجھے پرسوں خط ملا ہے جس میں انہوں نے اس خواہش کا اظہار کیا ہے کہ چونکہ آپ کا یہ خطبہ براہ راست ماریشس میں سنا جار ہا ہوگا اس لئے ہمارے اس جلسے کو ملحوظ رکھتے ہوئے چند کلمات ہماری جماعت کو مخاطب کر کے بھی کہیں اس سے جماعت کی حوصلہ افزائی ہوگی۔جہاں تک جماعتی نظام کا تعلق ہے خدا تعالیٰ کے فضل سے وہ ایک نئے دور میں داخل ہو رہا ہے۔اس پہلو سے کہ پاکستان کی جماعتوں سے باہر پہلے وہ نظام جو پاکستان میں یا اس سے پہلے ہندوستان میں رائج تھا وہ تمام دنیا میں اس طرح تفصیل سے رائج نہیں ہوا تھا بلکہ بالعموم دستور یہی تھا کہ جو مرکزی نمائندہ