سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 176 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 176

176 جس طرح آپ اکثر زمیندار ہیں، آپ جانتے ہیں کہ جب کھیتوں میں غیر پودے داخل ہو جائیں اور گہری جڑیں پکڑ جائیں تو ایک یا دو مرتبہ کی کلائی ان کو اکھیڑنے کے لئے کافی نہیں ہوا کرتی۔آپ ایک دفعہ محنت کرتے ہیں کلائی کرتے ہیں پھر دوسری دفعہ کرتے ہیں پھر تیسری دفعہ کرتے ہیں اور بظاہر کھیت خالی ہو جاتا ہے لیکن جڑیں موجود ہوتی ہیں، اس لئے چوتھی دفعہ پھر ضرورت پیش آ جاتی ہے۔بعض دفعہ چھ چھ مہینے، سال سال محنت کرنی پڑتی ہے اور اگر ماحول میں وہ جڑی بوٹیاں موجودر ہیں تو ایک زمیندار خواہ کتنا ہی مختی کیوں نہ ہو کتنی احتیاط کے ساتھ بھی اپنے کھیت کو ان غلط بوٹیوں سے پاک کرنے والا ہو پھر بھی بار بار ماحول سے اڑ کر اُس کے کھیتوں میں یہ غلط جڑی بوٹیاں جڑ پکڑتی رہتی ہیں۔چنانچہ پاکستان کے احمدیوں کا بھی یہی حال ہے۔سالہا سال سے جماعت احمدیہ کے مختلف ادارے، جماعت احمدیہ کی مختلف تنظیمیں کوشش کرتی ہیں اور کرتی چلی جارہی ہیں لیکن ماحول کیونکہ بہت گندا اور بیہودہ ہو چکا ہے اس لئے ہر طرف سے جھوٹ داخل ہوتا چلا جاتا ہے اور بہت بڑی محنت کی ضرورت ہے۔ان ملکوں میں آنے والے احمدیوں کو وہاں کے مقابل پر ایک فائدہ اور ایک فوقیت حاصل ہے۔یہاں اگر وہ دیانتداری اور تقویٰ کے ساتھ جھوٹ کے پودے کو تلف کرنے کی کوشش کریں گے تو چونکہ باہر کے معاشروں میں یعنی مغربی دنیا کے معاشرے میں جھوٹ کی عادت نہیں ہے، بہت اونچے مقامات پر بڑے مقاصد کے لئے یہ جھوٹ بولتے ہیں۔روز مرہ کی شہری زندگی میں جھوٹ ایک شاذ و نادرسی چیز ہے۔پکے ہوئے مجرم جھوٹ بول دیتے ہیں لیکن عام سوسائٹی جھوٹ نہیں بولتی۔وہ واقف ہی نہیں کہ جھوٹ بھی بولا جاتا ہے۔ایسے ماحول میں اگر ایک دفعہ آپ کی صفائی ہو جائے تو خدا تعالیٰ کے فضل سے اس بات کی بھاری توقع رکھی جاسکتی ہے کہ لمبے عرصہ تک آئندہ آنے والی نسلوں تک بھی آپ لوگ جھوٹ سے پاک رہیں گے اس لئے یہاں آ کر پناہ لینی ہے تو خدا کی پناہ لیں اور شیطان سے پناہ لیں۔ہجرت کرنی ہے تو وہ ہجرت کریں جو اللہ اور رسول کی طرف ہجرت ہوا کرتی ہے اور اس ہجرت میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ جھوٹ کی سرزمین سے ہجرت کر کے سچائی کی زمین میں داخل ہو جا ئیں اور سچائی کی پناہ میں آجائیں۔یہ کام بہت مشکل اور محنت طلب ہے اور اس میں یہ کہنا کہ فلاں جماعت کا عہد یدار ہے، فلاں اس حیثیت کا آدمی ہے، فلاں چندے دیتا ہے ، فلاں نمازیں پڑھتا ہے اس لئے جھوٹ نہیں بولتا ہوگا یہ بھی غلط ہے۔کیونکہ بعض بُرائیاں بعض نیکیوں کے ساتھ بھی پنپتی رہتی ہیں اور اگر تو بہ نہ کی جائے تو رفتہ رفتہ نیکیوں کو کھا جاتی ہیں۔اسی طرح بعض نیکیاں برائیوں کو رفتہ رفتہ زائل کرتی چلی جاتی ہیں اور یہ زندگی کی مستقل جد و جہد ہے۔اس لئے یہ کہنا بھی درست نہیں کہ چونکہ فلاں شخص میں فلاں نیکی ہے اس لئے وہ جھوٹ سے پاک اور عاری ہے اور یہ کہنا بھی درست نہیں کہ چونکہ فلاں شخص جھوٹ بولتا ہے اس لئے وہ نمازیں بھی ٹھیک نہیں پڑھتا، اس کا خدمت کرنا بھی بے معنی اور لغو ہے، اس کا چندے دینا بھی بے معنی اور لغو ہے۔یہ دونوں انتہا ئیں ہیں جو غلط