سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 163 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 163

163 بالعموم ایک تموج کی شکل میں تھا یعنی انسان دکھائی نہیں دے رہے تھے لیکن یوں معلوم ہوتا تھا کہ موج در موج مخلوق خدا جماعت کی مدد کے لئے متوجہ ہو رہی ہے۔بلکہ ایک دفعہ یوں لگا کہ جیسے میں کہوں کہ بس کافی ہوگئی بس کرو اتنی ضرورت نہیں۔لیکن لہریں پھر اٹھتی ہوئی دوبارہ ساحل سے ٹکرا کر جس طرح چھلک کر باہر آپڑتی ہیں ، اسی طرح میں نے ان کو دیکھا۔تو بیک وقت یہ احساس ہونے کے باوجود کہ یہ انسانی مدد ہے ، نظارہ وہ موجوں کا سارہا ، جب رویا سے آنکھ کھلی تو اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ الہام تغیر کے طور پر میری زبان پہ جاری تھا کہ يَنْصُرُكَ رِجَالٌ نُوحِي إِلَيْهِمُ مِنَ السَّمَاءِ ( تذکره : 39) کہ تیری نصرت خدا کے ایسے مرد میدان بندے کریں گے جن کو اللہ تعالیٰ خود وحی کے ذریعے اس بات پر آمادہ فرمائے گا۔تو میں امید رکھتا ہوں کہ اس نئی صدی کے پہلے سال میں اس رویا کا دکھایا جانا محض کسی عارضی مفاد سے تعلق نہیں رکھتا بلکہ یہ آئندہ زمانے میں جماعت کی نصرت کا خیال قوموں میں ہر در لہر، موج در موج اٹھے گا اور مختلف ملکوں میں خدا تعالیٰ غیروں کے دل میں بھی جماعت کی تائید میں اٹھ کھڑے ہونے کے لئے ایک حرکت پیدا کرے گا ایک توجہ پیدا فرمائے گا اور کثرت کے ساتھ انشاء اللہ جماعت کو ایسے انصار ملیں گے جو جماعت سے نہ بھی تعلق رکھتے ہوں تو اللہ تعالیٰ کی وحی کے تابع (یعنی وحی بعض دفعہ خفی بھی ہوتی ہے ضروری نہیں کہ الہام کی شکل میں لفظوں میں وہ ظاہر ہو۔مگر خدا تعالیٰ کی طرف سے چلنے والی تحریکات کی روشنی میں) ان کے دل جماعت کی مدد کے لئے متوجہ ہوں گے۔اپنے نفس کا محاسبہ کرتے ہوئے دعاؤں پر انحصار بڑھائیں اس رؤیا کے بعد میں خصوصیت سے جماعت کو دعاؤں کی طرف متوجہ کرتا ہوں اور یاد دلاتا ہوں کہ جب بھی وہ اپنے متعلق یا اپنے دوستوں کے متعلق یا جماعت کے متعلق کوئی فکر والی باتیں سنیں یا کوئی تو ہمات ان کے دلوں کو گھیر لیں تو اپنے نفس کا یہ پہلا محاسبہ کیا کریں کہ ان کا خیال کس طرف گیا تھا۔مدد ڈھونڈنے کے لئے ان کو کوئی انسان یاد آیا تھا کوئی دنیاوی ذریعہ اختیار کرنے کی طرف توجہ مائل ہوئی تھی یا سب سے پہلے توجہ خدا کی طرف گئی تھی۔موحد بندے کی شان یہ ہے کہ توجہ کا اولین مرکز خدا ہوتا ہے ورنہ یہ دنیا ایسی ہے کہ جس میں باتیں ایسی مل جل جاتی ہیں کہ توحید اور شرک کی تفریق آسان نہیں رہتی۔خدا کے مومن بندے دعا ئیں بھی کرتے ہیں اور اسباب کو بھی اختیار کرتے ہیں اور بعض غیر بھی جو تو حید کے اعلیٰ مقام پر فائز نہیں ہوتے وہ اسباب کو بھی اختیار کر لیتے ہیں اور دعاؤں کی طرف بھی متوجہ ہو جاتے ہیں لیکن ان دونوں کے درمیان ایک فرق ہے اور وہ فرق اولیت کا ہے۔مومن کا اول سہارا خدا تعالیٰ کی ذات ہے اور اس تعلق کے قیام کے لئے جو بندے اور خدا کے درمیان سہارے کی شکل میں ظاہر ہوا کرتا ہے دعا ذریعہ بنتی ہے۔یعنی سہارا تو خدا تعالیٰ ہر ایک کا ہے ہی لیکن اس خصوصی مدد کے لئے جو انسان کسی خاص مشکل کے وقت محسوس کرتا ہے کہ مجھے اس کی