سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 138 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 138

138 پس چونکہ ہمارے اس جذبہ تشکر میں دراصل خدا کی شکر گزاری کا جذبہ کارفرما ہے اور وہی محرک ہے اسی لئے اس جذ بہ تشکر کے ساتھ جب ہم خدا تعالیٰ کی حمد کے گیت گائیں گے اور اس پر بہت بہت خدا کا شکر ادا کریں گے تو مجھے اس میں کوئی بھی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے بہت ہی جزا د ینے والا خدا اس جذ بہ تشکر کو بھی قبول فرمائے گا اور اس کی بڑھ چڑھ کر ہمیں جزا عطا فرمائے گا۔میں نے مختلف قسم کے فقیر دیکھے ہیں۔بعض فقیر ایسے ہوتے ہیں کہ ان کو آپ زیادہ بھی دے دیں تو ان کے چہرے سے شکر اور خوشی کے جذبات ظاہر نہیں ہوتے۔ان کے ماتھے پر سلوٹیں ہی پڑی رہتی ہیں۔بعض دفعہ پرانے زمانے میں میں نے دیکھا ہے کسی فقیر کو ایک روپیہ بھی دو اس زمانے میں روپیہ بڑی چیز ہوا کرتا تھا۔تو وہ کہتا تھا بس ایہہ دتا اے؟“ یہی تھا تمہارے پاس اور کچھ نہیں تمہارے پاس۔اور بعض فقیر ایسے ہوتے ہیں کہ ان کو ایک معمولی سی چیز بھی دے دو تو وہ فدا ہونے لگتے ہیں، دعائیں دیتے ہیں، اگلی نسلوں کو بھی دعائیں دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ تمہیں یہ عطا کرے، یہ عطا کرے، تم نے فقیر کا دل خوش کر دیا ہے ایسے فقیر کے لئے سب کچھ دے دینے کو جی چاہتا ہے۔اگر انسان کے اندر یہ جذبہ موجود ہے تو یقیناً یہ در اصل خدا تعالیٰ سے ہم میں آیا ہے کیونکہ انسانی فطرت کو خدا تعالیٰ کے مزاج سے ایک ربط ہے۔ویسا ہی ربط ہے جیسا ہر خالق کے ساتھ اس کی تخلیق کو ایک ربط ہوا کرتا ہے۔کہتے ہیں خدا تعالیٰ نے انسان کو اپنی صورت پر پیدا کیا۔اس کا یہ مطلب تو یہ ہر گز نہیں کہ نعوذ باللہ ہم خدا کی صفات میں شریک ہو گئے ہیں اور خدا جیسے ہیں بلکہ اس کا یہ معنی ہے کہ جیسے ہر مصور اپنے مزاج اور اپنے تصور کی انتہائی چھلانگ کے مطابق ایک تصویر بناتا ہے اور اس تصویر کے نقوش اس کے ذہن کے نقوش سے ملتے ہیں۔اسی طرح خالق کا اپنی تخلیق کے ساتھ ایک گہرا رابطہ ہے۔پس جب اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے کہ میں تمہارے شکر کو قبول کرتے ہوئے تمہیں بہت زیادہ دوں گا تو یہ دراصل اللہ تعالی کے شکر کا انداز ہے اور یہی جذبہ تشکر ہے جو نیک فطرت لوگوں میں پایا جاتا ہے خواہ وہ امیر ہوں خواہ وہ غریب ہوں، خواہ وہ عطا کرنے والے ہوں خواہ وہ فقیر ہوں۔جنہوں نے خدا کے اس حسن سے حصہ پایا ہوان کے اوپر تھوڑ اسا احسان بھی بڑے بڑے رنگ جماتا ہے اور وہ جذ بہ تشکر سے مغلوب ہو کر دعائیں دیتے ہوئے اس احسان کو قبول کرتے ہیں۔پس خدا کی خاطر اگر ہم خدا کے شکر گزار بندے بنہیں تو میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ عطا کرنے والے سے بہت بڑھ کر جس کی عطا کے نتیجے میں کوئی فقیر اس کو دعائیں دیتا ہے، اس کا شکر گزار بنتا ہے اس سے بہت بڑھ کر اللہ تعالیٰ اس جذبے کو قبول فرمائے گا۔اس فقیر کی دعاؤں کے نتیجے میں جو دل میں بشاشت پیدا ہوتی ہے اور محبت پیدا ہوتی ہے اور معطلی کے دل میں مزید دینے کی تمنا پیدا ہوتی ہے۔اس سے بہت بڑھ کر اتنا بڑھ کر اس سے کوئی نسبت نہیں خدا تعالیٰ اپنے شکر گزار بندوں کو مزید عطا کرنے کے لئے ایک جوش