سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 548
78 طبائع میں لیکن بعض ایسے سال بھی گزرے ہوں گے کہ سارے سال میں جتنے نئے احمدیت میں داخل ہونے والے تھے اس سے زیادہ ایک مہینے میں ، بعض دفعہ ایک ہفتے میں ہو جاتے ہیں نئے احمدی۔تو ایک احمدی کی زندگی کے جو حالات ہیں ان میں عظیم تبدیلیاں پیدا ہو رہی ہیں۔خاموشی کے ساتھ ہم اپنے راستوں پر چلتے ہوئے اپنی زندگی نہیں گزار سکتے ، چوکس اور بیدار ہو کر ہر اس اچھی تبدیلی ( نوع انسان کے لئے جو آج پیدا ہو رہی ہے ) اس کو دیکھنا، اس کو سوچنا، اس کے مطابق اپنے ذہنوں میں تبدیلی پیدا کرنا، جو نئے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں ان کو سلجھانے کے لئے تدابیر کرنا، قرآن کریم پر غور کرنا کیونکہ قیامت تک کے ہر نئے مسئلے کا حل قرآن کریم کے اندر موجود ہے اور خدا سے دعا کرنا کہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم کے علوم بڑوں کو بھی سکھائے اور نوجوان نسل میں بھی علم قرآنی کے حصول کا ایک جوش، ایک عشق ، ایک جنون پیدا کرے تا کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو سمجھے لگیں۔گھر کا سولہ سال کا بچہ اپنے گھر میں یہ فضا نہیں پیدا کر سکتا۔یہ تو باپ فضا پیدا کر سکتا ہے یا ماں فضا پیدا کر سکتی ہے یا وہ بھائی پیدا کر سکتا ہے جو اپنی عمر کے لحاظ سے بڑا ہے مثلاً گھر میں بھائی ہے تمہیں پینتیس چالیس سال کا قریباً انصار کی عمر کو پہنچا ہوا ہے اور کچھ بھائی ہیں ، پندرہ سولہ میں سال کی عمر کے جو ایسی عمر میں داخل ہو رہے ہیں جس میں غلط قسم گندی قسم کی دوستی کے بداثر کا امکان بھی زیادہ ہوتا ہے۔ان کو اس وقت سنبھالنا، اس کے لئے دعا کی ضرورت ہے۔اگر اسلام اپنے ماننے والوں کا رب کریم کے ساتھ زندہ تعلق پیدا نہ کرسکتا تو اسلام کی ضرورت نہیں تھی نوع انسانی کو نوع انسانی کو آج اسلام کی ضرورت اس لئے ہے کہ یہ ضروری ہے انسان کی اس زندگی کی خوشحالی کے لئے بھی (جو دوسری زندگی ہے اس میں تو بہر حال ہے ) لیکن اس زندگی کی خوشحالی کے لئے بھی یہ ضروری ہے کہ اس دنیا کی زندگی میں انسان کا ایک زندہ اور پختہ پیار کا اور فدائیت کا اور ایثار کا تعلق اپنے رب کریم سے پیدا ہو جائے۔الیسَ اللَّهُ بِكَافٍ عَبْدَہ کی انگوٹھی کا رواج ہے۔ہم میں کہ اللہ ہی اللہ ، یہی معنے ہیں نا اس کے۔اللہ بیلی، پنجابی میں کہتے ہیں۔”مولا بس۔یہ روح احمدی کے بچے میں اور بڑے میں پیدا ہونی چاہئے کہ ”مولا بس خدا کے علاوہ کسی چیز کی ضرورت نہیں ہمیں اور ہر چیز جس کی ضرورت ہے وہ اللہ تعالیٰ سے ہم لیں گے کسی اور طرف منہ پھیرنے کی ہمیں ضرورت نہیں۔اس خطبہ میں میں بڑوں کو یہ توجہ دلا رہا ہوں کہ اپنے گھروں کی صفائی کریں۔گھروں میں اخلاقی اور روحانی حسن پیدا کریں۔اپنے گھروں کی ظلمات دور کر کے انہیں منور بنا ئیں تا کہ آپ کی آئندہ نسل جو ہے وہ اس نیک اور پاک اور مطہر ماحول میں اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کے رحم کے ساتھ پر ورش پا کر وہ بنیں جو اللہ تعالیٰ انہیں بنانا چاہتا ہے۔انسان زور بازو سے متقی نہیں بن سکتا، پر ہیز گار نہیں بن سکتا۔قرآن کریم نے کھول کے یہ بات بیان کی اور دھڑلے کے ساتھ اس کا اعلان کیا اور حکم دیا ہمیں۔فَلَا تُرَكُوا أَنْفُسَكُمْ (النجم: 33) کبھی