سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 516
46 $ 1974 بڑی عمر کے احمدیوں کو زندگی وقف کرنی چاہئے حضرت خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ نے خطبہ جمعہ 25 جنوری 1974 ء میں فرمایا۔" ہمیں اُن بڑی عمر کے احمدیوں کی ضرورت ہے جو اگر چہ جامعہ احمد یہ یا اس قسم کے کسی ادارہ میں تو نہ پڑھے ہوں لیکن اُن کی زندگی صحیح اور حقیقی اسلام کے مطالعہ میں خرچ ہوئی ہو اور جن کے دل خدا تعالیٰ کی محبت سے معمور ہوں اور جن کا اپنے رب سے اخلاص کا تعلق ہو اور جن کی ہمت جوان ہوا گر چہ عمر کے لحاظ سے وہ جواں نہ ہوں وہ آگے آئیں۔وہ ریٹائر ہو گئے دنیوی کاموں سے۔وہ جور بیٹائر ہو سکتے ہیں۔(ملازمت کا ایک ایسا حصہ جس میں انسان اپنی مرضی سے ریٹائر ہو جاتا ہے اور اسکی پنشن پر خاص فرق نہیں پڑتا یا بعض دفعہ بالکل ہی فرق نہیں پڑتا ) ایسے لوگ اپنی زندگیوں کو وقف کریں تا کہ ہم انہیں ان ممالک میں بھجواسکیں" (خطبات ناصر جلد پنجم صفحہ 396) سائیکل سوار واقفین عارضی کی ضرورت ہے حضور نے خطبہ جمعہ 3 مئی 1974 ء میں فرمایا۔" میں نے کہا تھا کہ سائیکل سوار واقفین عارضی بھی چاہئیں کیونکہ وہ زیادہ وسیع علاقہ اور دائرہ میں کام کر سکتے ہیں۔میں نے کچھ عرصہ سے اس کی تحریک نہیں کی تھی اب یاد کراتا ہوں (ویسے اللہ تعالیٰ کے فضل سے کئی ہزار احمدیوں نے اس عرصہ میں کام کیا ہے لیکن ہمارا قدم آگے بڑھنا چاہئے پیچھے نہیں ہٹنا چاہئے۔میں اپنے پیارے احباب جماعت سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اس کام کے لئے آگے آئیں۔اب چھٹیوں کے دن آرہے ہیں۔ہماری قوم کا ایک حصہ اور اُسی نسبت سے جماعت کا ایک حصہ ایسا ہو گا جن کو چھٹیاں ملیں گی۔جو چھٹیوں سے فائدہ اُٹھانا چاہیں وہ وقف کریں اور وقف عارضی کے منصوبہ کے ماتحت مختلف علاقوں میں جائیں یا سال کے دوسرے اوقات میں جائیں۔زمینداروں کے بعض دوسرے اوقات نسبتاً خالی ہوتے ہیں اور مصروفیت بڑھ جاتی ہے تو زمینداروں کیلئے نسبتاً جو سہولت کے دن ہیں اُن میں وہ کام کریں تا کہ دنیاوی سہولت سے فائدہ اُٹھا کر اُخروی سہولت کے سامان اپنے لئے اور اپنے عزیزوں کیلئے وہ پیدا کرسکیں اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے" ( خطبات ناصر جلد پنجم صفحہ 508)