سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 428 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 428

سبیل الرشاد جلد دوم 428 ہوئیں ہوں اور غصہ کے آثار ہوں چہرے پر۔مگر سارے مجمعے میں مجھے ایک بھی نہیں ملتا۔ابھی پولو کے لئے گئے ہوئے تھے۔بہت سارے لوگ تھے۔اچھے پڑھے لکھے بہت سارے آدمی آئے ہوئے تھے وہاں۔لیکن ایک آنکھ میں بھی غصہ نہیں نظر آیا۔ایک دفعہ بچی کے پتے کا آپریشن راولپنڈی میں کوئی فوجی ہسپتال ہے وہاں ہوا۔تو وہاں میں بچی کو پوچھنے گیا۔تو بہت سارے لوگ پھر رہے تھے۔میں نے بچی کا حال پوچھا۔اُس کی والدہ باتیں کر رہی تھی۔میں باہر نکل آیا اپنے احمدی دوست بھی تھے۔تو سب کو دیکھا نظر ڈالی، جو پاس سے گزرتا تھا سلام کرتا تھا۔مسکراتا تھا۔غصہ کوئی نہیں دکھاتا تھا۔۔یہ ٹھیک ہے کہ غصہ بہت ہے۔ایک خاص طبقہ ہے کوئی ! یا شاید اس سے بھی کم ہوگا۔ایک چھوٹا سا نقطہ سارے پاکستان کے نقشے کے اوپر ہے وہ بڑا غصہ دکھاتے ہیں۔یہ بھی ٹھیک ہے کہ عارضی طور پر پاکستانی شہریوں کا بھی اس میں حصہ شامل ہو جاتا ہے جنہیں غلط باتیں کر کے غصہ دلا دیا جاتا ہے۔لیکن یہ بھی تو حقیقت ہے کہ سال میں گیارہ مہینے یہ لوگ جنہیں کبھی کبھی غصہ آتا ہے وہ بغیر غصے کے زندگی کے دن گزار رہے ہوتے ہیں۔اور چاہتے ہیں کہ آپ اُن سے بات کریں۔ان کو بتائیں۔پس حقیقت کا کسی کو پتہ ہی نہیں مثلاً نبوت کا دعوی ہے۔مجھ سے سوال ہو گیا ۷۴ء میں کہ کیا آپ (اُنہوں نے تو یہی کہا تھا ) مرزا غلام احمد صاحب کو نبی مانتے ہیں؟ میں نے کہا نہیں۔تو وہ بھی پریشان اور ابو العطاء صاحب کہنے لگے کہ آپ نے تو ہمارے پاؤں کے نیچے سے زمین نکال دی۔پھر میں خاموش ہو گیا کوئی ۲۵ - ۳۰ سیکنڈ کے لئے۔پھر میں نے کہا ہم اُمتی نبی مانتے ہیں۔اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے نبی کی تعریف کی ہے۔اور امتی نبی کی بھی تعریف کی ہے اور اگر میں یہاں پوچھوں کہ کس کو یہ دو مختلف تعریفیں جو نبی اور امتی نبی کی ہیں آتی ہیں تو کوئی ہاتھ کھڑا ہو گا (اس پر بعض دوستوں نے ہاتھ کھڑے کئے۔آپ نے فرمایا ) نبی کی کیا تعریف ہے؟ ( جواب سننے پر فرمایا ) امتی نبی کی ( پھر فرمایا ) ہاں کچھ قریب قریب پھر رہے ہیں۔اصل جواب نہیں ملا۔نبی اور امتی نبی کا فرق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ نبی اُسے کہتے ہیں جو مقام نبوت کے حصول میں نبی متبوع کا کامل تابع ہے ہی نہیں۔ہونا ضروری نہیں اُس کا۔مثلاً بنی اسرائیل میں حضرت موسیٰ علیہ السلام شریعت لے کے آئے اور اُن کے بعد نبی اسرائیل میں ایک ایک وقت میں سینکڑوں نبی بھی ہو جاتے تھے۔ایک ایک گاؤں کا نبی لیکن اُن کو نبوت کا مقام اس لئے نہیں ملتا تھا کہ وہ حضرت موسیٰ