سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 337 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 337

337 سبیل الرشاد جلد دوم یہ دو گروہ جو کمیت کے لحاظ سے اتنی کثرت میں ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں خیر القرون کے بعد اور مسیح و مہدی کی بعثت سے قبل کا جو درمیانی زمانہ ہے یعنی فیج اعوج کا زمانہ جو اسلام کے تنزل کا زما نہ کہلاتا ہے ، اس میں بھی حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فیض حاصل کر کے اللہ تعالیٰ کے پیار کو حاصل کرنے والے مقربین الہی ایک دریائے عظیم کی مانند تھے۔تا ہم مُنْعَمُ عَلَیہ کے ان دو گروہوں کے مقابلہ میں یہ دریائے عظیم کوئی حقیقت نہیں رکھتا۔ان دو مُنعَمُ عَلَیہ گروہوں میں ہمیں جو فرق نظر آتا ہے اور وہ بڑا اہم ہے آج میں اس کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں۔جیسا کہ بتایا گیا ہے مُنْعَمُ عَلَيْهِ گر وہ وہ ہے جو پہلی تین صدیوں پر پھیلا ہوا ہے۔میں سمجھتا ہوں وہ اپنی تعداد کے لحاظ سے لاکھوں کروڑوں تک پہنچا ہوا ہے اور اپنے روحانی انوار اور اخلاقی اقدار کے لحاظ سے اس شان کا ہے کہ صرف دُنیائے اسلام ہی میں اُن کی عزت واحترام نہیں بلکہ وہ لوگ جو اسلام کے مخالف تھے وہ بھی دنیوی لحاظ سے اسلام کے ابرار واخیار کے سامنے اپنی گردنیں جھکانے پر مجبور ہو گئے۔چنانچہ انہوں نے بھی مسلمانوں سے فیض حاصل کیا۔اور یہ فیض مسلمانوں کا اپنا نہیں تھا بلکہ یہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نور کا ایک حصہ تھا۔پس میں آج کا مضمون اسلام کے ان بزرگوں کے ذکر سے شروع کرتا ہوں جن کا مختلف شعبہ ہائے زندگی کے ساتھ تعلق تھا۔اس گروہ میں قرآن کریم کے بڑے زبر دست مفسر پیدا ہوئے۔بڑے زبر دست محدث پیدا ہوئے۔جنہوں نے احادیث جمع کیں اور حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات ہم تک پہنچائے۔بڑے زبر دست متکلمین پیدا ہوئے۔جن کے علم کلام نے دُنیا میں ایک تہلکہ مچا دیا۔بڑے زبر دست مورخین پیدا ہوئے۔بڑے زبر دست صوفیاء پیدا ہوئے۔بڑے زبر دست سیاستدان پیدا ہوئے۔بڑے زبر دست حساب دان پیدا ہوئے۔بڑے زبر دست اطباء پیدا ہوئے۔غرضیکہ ہر علم کے بڑے زبردست ماہر پیدا ہوئے۔جب میں نے بعض مضامین مثلاً تاریخ کا نام لیا، طب کا نام لیا تو اگر چہ بظاہر ان علوم کا حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے روحانی فیوض کے ساتھ کوئی تعلق نہیں لیکن چونکہ ساری کائنات محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے پیدا کی گئی ہے۔اس لئے اس کا ئنات کے ہر شعبہ کا تعلق لازما محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہے چنانچہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ قرآن کریم میں ہمیں ہر علم کے متعلق بنیادی ہدایت دی گئی ہے جس کا میں علی وجہ البصیرت ذکر کرتا رہتا ہوں۔میرے پاس جب کبھی کوئی سائنسدان آتا ہے ، میں اس کو سمجھا تا ہوں کہ دیکھو! سائنسز ( علوم ) میں سے جس کسی علم پر تم نے تحقیق کی ہے اور اُسے مدون کیا ہے ان میں سب سے کامل علم جس میں شک کی