سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 302
سبیل الرشاد جلد دوم 302 جائے گا یہ نہیں کہ وہ مسلمان نہیں ہے۔گویا احمدیوں کو دستور یا قانون کی اغراض کے لئے مسلمان نہیں سمجھا جائے گا یا ان لوگوں کو بھی جو کسی شکل میں مہدی کے منتظر ہیں۔ہر احمدی کا یہ آئینی حق ہے کہ وہ اپنے مسلمان ہونے کا اعلان کرے : چنانچہ ۷ ستمبر ہی کو اس ترمیم کے متعلق پرائم منسٹر صاحب نے جو تقریر کی اس کا ایک پیرا گراف اس طرح شروع ہوتا ہے۔یہ فیصلہ ایک ہی وقت میں دینی بھی ہے اور لادینی بھی۔"This is both a religious and secular decision" "It is a religious decision because it affects the majority of the population which is Muslim" اس کو ہم مذہبی فیصلہ صرف اس لئے کہہ رہے ہیں کہ یہ فیصلہ اثر انداز ہوتا ہے ایک ایسی پاکستانی اکثریت پر جو پیدائشی طور پر مسلمان ہیں۔اس واسطے ہم اس فیصلہ کو مذہبی فیصلہ نہیں کہیں گے۔It is a Secular decisin because We live in Modern times۔" اور یہ فیصلہ سیکولر ( لا دینی) ہے کیونکہ ہم ماڈرن ٹائمنز میں رہتے ہیں۔سیکولر کے معنے انگریزی زبان میں مختلف ہوتے ہیں۔جب سیکولر (Secular) کا لفظ ریجن (Religion) کے مقابلے میں آئے تو اس کے دو معنے ہو سکتے ہیں۔ایک Worldly ( دُنیا دارانہ ) اور ایک Non Sacred یعنی جس میں مذہبی تقدس نہ ہو۔گویا پرائم منسٹر صاحب کے اعلان کے مطابق یہ مذہبی تقدس والا فیصلہ بھی ہے اور دُنیا دارانہ فیصلہ بھی ہے اور انہوں نے اُس دن اسے دُنیا دارانہ فیصلہ اس لئے قرار دیا کہ ہم ماڈرن ٹائمنر ( Modern Times) میں رہتے ہیں۔اگر ہم اس قسم کی سختی کریں کہ کوئی شخص اپنے آپ کو مسلمان سمجھتے ہوئے بھی مسلمان نہ سمجھے تو ساری دُنیا میں شور مچ جائے گا۔اس واسطے انہوں نے صاف بات کر دی کہ صرف یہ فیصلہ ہوا ہے کہ دستور یا قانون کی اغراض کے لئے احمدیوں کو مسلمان نہیں سمجھا جائے گا۔جب بات دستور کی ٹھہری تو پھر ہمیں یہ دیکھنا پڑے گا کہ ہمارا دستور ہمیں کیا کہتا ہے۔ہمارا دستور کہیں بھی یہ نہیں کہتا کہ احمدی اپنے آپ کو مسلمان نہ سمجھیں۔دستور میں یہ Clause ہے ہی نہیں۔اس کے برعکس یہ Clause ہے جسے بھٹو صاحب نے بیان کیا ہے۔کہتے ہیں : "Have a secular constitution۔" اور یہ فیصلہ اس لئے سیکولر ہے کہ ہما را دستور بھی مذہبی نہیں بلکہ سیکولر ہے۔