سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 288
سبیل الرشاد جلد دوم کذاب کہا گیا ہے اور اسی طرح کئی دوسرے انبیاء علیہم السلام پر تہمتیں لگائی گئی ہیں۔ا 288 فضل میں دوستوں کو یہ بتا رہا ہوں کہ دیکھو قرآن کریم کو مہجور بنا کر کتنی بھیا نک شکل بنتی ہے۔اس لئے دوست دعائیں کریں۔دُعائیں کریں اور بہت دُعائیں کریں کہ اللہ تعالیٰ جماعت احمد یہ فرمائے۔اس کے اندر کبھی کوئی گروہ یا کوئی فردا ایسا نہ ہو جو قرآن کریم کو مہجور سمجھنے والا ہو اور اس کی تعلیم کو پیٹھ پیچھے پھینکنے والا ہو۔قرآن کریم تو ہماری زندگی ہے اور ہماری روح ہے۔یہ تو ہماری زندگی کا نور ہے۔اس کے بغیر تو اس زندگی کا کوئی مزہ ہی نہیں۔اس لئے اگر دوست اس دُنیا کی جنت چاہتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ اُخروی جنت کی لذتیں اور سرور چاہتے ہیں تو پھر انہیں قرآن کریم کو مضبوطی کے ساتھ پکڑ نا ہوگا۔حضرت بانی سلسلہ احمدیہ علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ چاہئے کہ قرآن کریم تمہارے اوپر یہ حکم لگائے کہ تم خدا کے مومن بندے ہو اور قرآن کریم کی تعلیم پر عمل کرنے والے ہو۔اگر قرآن عزیز نے تمہارے ایمان کی تصدیق نہ کی تو تم ہلاک ہو گئے۔آپ نے فرمایا ہے کہ قرآن کریم کے سینکڑوں احکام میں سے اگر کوئی ایک حکم کو بھی دیدہ دانستہ یا باغیانہ طور پر چھوڑتا ہے تو قرآن کریم کی گواہی اس کے خلاف ہوگی اور خدا تعالیٰ کا غضب اُس پر بھڑ کے گا۔پس حضرت امام مہدی معہود علیہ السلام نے ہمیں بیدار کر دیا ہے۔آپ نے ہمیں تنبیہ کر دی ہے۔اب یہ ہمارا کام ہے کہ ہم ہر وقت چوکس اور بیدار ر ہیں اور قرآن کریم کو کبھی مہجور نہ بنا ئیں۔ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنے ماحول میں ، اپنی مجلسوں میں قرآن کریم کی کثرت سے تلاوت کریں۔قرآن کریم کا ترجمہ سیکھیں۔اس کی ایک نہایت ہی حسین اور جامع تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کی ہے اس کو پڑھیں۔تاہم ہمارا ایک گروہ ان خوبصورت تفاسیر کو جاننے والا بھی ہو جو پہلوں کو دی گئی تھیں۔کیونکہ جیسا کہ میں اپنے گزشتہ خطبہ جمعہ میں بتا چکا ہوں۔کتاب مبین کی آج بھی ضرورت ہے۔پچھلے چودہ سو سال سے کتاب مکنون کے اوراق کتاب مبین کے اوراق میں تبدیل ہوتے رہے ہیں۔اب بھی یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ وہ زمانہ چلا گیا۔ہمیں کسی چیز کی ضرورت نہیں رہی۔میں پھر مختصر ابتا دیتا ہوں کہ کتاب مبین کی ہمیں اس لئے ضرورت ہے کہ اللہ تعالیٰ کے مطہر بندوں نے اللہ تعالیٰ ہی سے تفسیر سیکھ کر اسلام پر ہونے والے جن اعتراضات کا از منہ ماضیہ میں ازالہ کیا تھا اور اسلام کو ایک زندہ مذہب ثابت کرنے کے لئے جو حقائق پیش کئے تھے وہ پرانے تو نہیں ہو گئے۔اُن میں اکثر کو آج بھی دُہرایا جا رہا ہے۔اس لئے اسلام پر کئے جانے والے ایسے اعتراضات کے جو جوابات پہلوں کو سکھائے گئے تھے اُن کی ہمیں آج بھی ضرورت ہے۔