سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 285 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 285

سبیل الرشاد جلد دوم 285 یہودیوں کی روایات کو لے لیا اور انہیں جابجا بیان کر دیا۔میں اس کے یہ معنی بھی لے سکتا ہوں اور لیتا ہوں کہ ان راویوں اور مفسرین نے کہا ایک حکم کے آنے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔ہمارے پاس روایات کی شکل میں جو بھی رطب و یا بس پہنچا ہے ہم اُسے درج کر دیتے ہیں۔جب وہ حکم آئے گا تو وہ خود ہی ان کے صحیح یا غلط ہونے کا حکم لگائے گا۔وہ خود ہی یہ فیصلہ کرے گا کہ یہ گند ہے اسے باہر نکال دو۔یہ صداقت ہے اسے اپنا لو۔یہ تو تھا اُن روایتیوں کے بارے میں جو مفسرین نے قرآن کریم کی تفسیر کرتے ہوئے اپنی کتابوں میں درج کر دیں۔اب میں حدیث کو لیتا ہوں قرآن کریم کی احسن تفسیر حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات سے ہوتی ہے۔کیونکہ ہمیں یہ تعلیم دی گئی ہے اور یہی صداقت ہے کہ قرآن کریم چونکہ ایک کامل اور مکمل کتاب ہے ، اس لئے حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی ارشاد قرآن کریم میں زیادتی نہیں کرتا بلکہ قرآن کریم کی کسی نہ کسی آیت کی تفسیر کرتا ہے گویا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام ارشادات دراصل قرآن کریم کی تفسیر ہیں۔اب یہ فیصلہ کرنا باقی رہ جاتا ہے کہ آیا کون سا ارشاد فی الواقعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے نکلا ہے۔اس مشکل کو حضرت امام بخاری نے حل کر دیا۔اُن کے پاس جو حدیثیں یا خبریں یا روایتیں پہنچیں اُن کی تعداد چھ لاکھ تھی۔ان میں سے حضرت امام بخاری نے پانچ لاکھ کا نوے ہزار روایتوں کو تو ر ڈ کر دیا یہ کہہ کر کہ یہ مشکوک ہیں اس لئے قابل قبول نہیں۔اور صرف نو ہزار کو اپنی نیک نیتی کے ساتھ قبول کر لیا۔یہی حال دوسرے مؤلفین حدیث کا ہے۔پس یہاں حدیث کا سوال نہیں۔اصل سوال یہ نہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کو رد کیا جاتا ہے۔بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ حضرت امام مہدی علیہ السلام نے حکم کی حیثیت میں کسی حدیث کے متعلق یہ فیصلہ کرنا ہے کہ یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے بھی یا نہیں۔حضرت امام بخاری کو تو یہ حق دیا گیا کہ وہ اپنے احادیث کے مجموعہ میں سے پانچ لاکھ کا نوے ہزار احادیث کے متعلق یہ فیصلہ کریں کہ یہ اُن کے نزدیک مشکوک ہیں۔اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب نہیں ہو سکتیں۔لیکن یہی لوگ امام مہدی کو یہ حق دینے کے لئے تیار نہیں کہ ان نو ہزار احادیث میں سے جن کو امام بخاری نے قبول کیا یا دیگر علماء حدیث نے ان میں سے کچھ کے متعلق یہ کہے کہ تم نے یہ غلطی کی۔یہ تو حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد نہیں ہو سکتا۔اس لئے اِن ان وجوہ کی بناء پر میں اسے رڈ کرتا ہوں۔چنانچہ اسی حقیقت اور اپنی اسی حیثیت کے پیش نظر حضرت مہدی معہود و مسیح موعود علیہ السلام نے دنیا میں بڑی تحدی کے ساتھ یہ اعلان فرمایا میں اس کا مفہوم بیان کروں گا ، کتاب میں اصل عبارت