سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 249
249 سبیل الرشاد جلد دوم دیکھے ہیں تو اس پیالہ میں جو چیز اس کا ہاتھ آگے بڑھاتا ہے تو آگے بڑھ اور شوق کے ساتھ لے اور اسے پی جا۔کوئی شک نہ کر بلکہ تو اس یقین کے ساتھ پی جا کہ جیسا کہ قرآن کریم نے اس کا دعویٰ کیا ہے اس میں تیرے لئے شفا کا سامان پیدا کیا گیا ہے۔پس یہ تین بنیادی باتیں ہیں جو شیطان ، منافق کے دل میں پیدا کرتا ہے ان تین باتوں کا جواب جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی فطرت میں نمونہ نظر آتا ہے اسے قرآن کریم نے مندرجہ بالا آیہ کریمہ میں پیش کیا ہے۔اور پھر منافق کو جو آج زندہ ہیں یا ان کو جو کل زندہ ہوں گے۔تاہم جو مر گئے ہیں ان سے ہمارا کوئی تعلق نہیں۔لیکن جو آج زندہ ہیں ان کے ساتھ ہمارا تعلق ہے۔جو آئندہ ہوں گے ان کے ساتھ ہماری جماعت کا تعلق ہے کیونکہ قیامت تک کی تگ و دو اور قیامت تک کے جہاد اور مجاہدہ کرنے کا کام جماعت احمدیہ کے کندھوں پر ڈالا گیا ہے۔پس منافقین سے ہم یہ کہتے ہیں کہ اگر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود میں اور آپ کی فطرت میں یہ تین چیزیں تمہیں نظر آتی ہیں اور یقیناً نظر آتی ہیں تو پھر تو تم بتاؤ کہ تمہاری عقل کیا کہے گی؟ اس کے باوجود تمہیں شیطان کی طرف جھکنا چاہئے یا حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں جمع ہو جانا چاہئے۔تمہاری فطرت صحیحہ کا یہی صحیح جواب ہوگا کہ اگر یہ صحیح ہے اور یقینا صحیح ہے تو پھر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو شیطان لعین پر بہر حال ترجیح دینی پڑے گی۔دوست دعا کریں کہ منافقوں کو یہ بات سمجھ آ جائے اللہ تعالیٰ نے بلا وجہ اور بغیر کسی مصلحت کے تو یہ نہیں فرمایا کہ منافقوں کو سال میں ایک دو دفعہ آزمائش میں ڈالنا چاہئے۔کیونکہ ہمارا تجربہ ہے کہ پانچ چھ مہینے کی یا بعض دفعہ آٹھ دس مہینے کی خاموشی ہو تو پھر جس طرح جنگلی چوہا اپنے بل سے منہ باہر نکالتا ہے منافق بھی اپنے بل سے منہ باہر نکالنے کی کوشش کرتا ہے۔اور وہ نہیں جانتا کہ جنہوں نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ان صفات کے جلوے اپنی زندگیوں میں دیکھے ہیں وہ تمہارے فریب میں کبھی نہیں آ سکتے وہ تمہارے لئے دعائیں کریں گے وہ تمہاری اصلاح کی کوشش کریں گے۔وہ تمہاری خدمت کریں گے کیونکہ تم بھی خدا کی مخلوق ہو۔مگر وہ تمہارے دھوکا میں نہیں آئیں گے۔اور تمہیں سمجھا ئیں گے کہ دیکھو شیطان کے چیلے نہ بنو۔بلکہ خدائے رحمان کے دوست بنو۔خدا نے کہا اور بڑے پیار سے کہا ( آدمی سوچتا ہے تو جذبات میں آ جاتا ہے کہ اتنی عظیم ہستی اور ہمیں کہے ) کہ میں تمہارا دوست ہوں۔تم خدائے واحد یگانہ ، قادر مطلق کے دوست بنے کی اہلیت رکھتے ہو۔اپنے نفسوں کو ٹو لو۔میں تو جب بھی اپنے نفس کو ٹو لتا ہوں۔تو یہی جواب آتا ہے کہ نہیں اے خدا! میرے اندر کوئی اہلیت نہیں تھی یہ سب تیر افضل اور تیری