سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 235 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 235

سبیل الرشاد جلد دوم 235 سیدنا حضرت خلیفہ امسیح الثال رحمہ اللہ تعالی کا انتقامی خطاب فرموده ۱۹ ارنبوت ۱۳۵۰ بهش ۱۹ نومبر۱۹۷۲ء بمقام احاطه دفاتر مجلس انصاراللہ مرکز بیر بوہ سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے مندرجہ ذیل آیات تلاوت فرمائیں : اَوَلَا يَرَوْنَ أَنَّهُمْ يُفْتَنُونَ فِي كُلِّ عَامٍ مَّرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ ثُمَّ لَا يَتُوبُونَ وَلَا هُمْ يَذَّكَّرُونَ۔قَالُوا بَلَى وَلَكِنَّكُمْ فَتَنْتُمْ أَنْفُسَكُمْ وَتَرَبَّصْتُمْ وَارْتَبْتُمْ وَغَرَّتْكُمُ الْاَمَانِى حَتَّى جَاءَ أَمْرُ اللهِ وَغَرَّكُم بِاللهِ الْغَرُورُ ) ) اور پھر فرمایا: اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں منافقوں کا ذکر کیا ہے اور اس رنگ میں ان کا ذکر کیا ہے اور نفاق کے ہر پہلو پر اس تفصیل سے روشنی ڈالی ہے کہ ایک مسلمان کے لئے منافقوں کی ذہنیت کو سمجھنا مشکل نہیں رہا۔غرض قرآن کریم میں نفاق کے متعلق بڑی کثرت سے ذکر کیا گیا ہے۔اس سے ہم تین نتائج اخذ کرتے ہیں۔ایک یہ کہ وہ لوگ، وہ سلسلہ اور وہ جماعت جو قرآن کریم سے محبت اور پیار کرنے والی ہے اور قرآن کریم کو حرز جان بنانے والی ہے اور قرآن کریم پر فدا ہونے والی ہے اور قرآن کریم کے رموز و اسرار کے حصول کے لئے اللہ تعالیٰ کے حضور عاجزانہ طور پر جھکنے والی ہے۔اُس کے ساتھ منافقوں کا وجود ہمیشہ پایا جاتا رہے گا۔اسی لئے تو قرآن کریم نے جماعت مومنین کو بار بار اور ہر رنگ میں منافقین کے متعلق آگاہ کیا اور ان کے حالات پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔ہم اس سے دوسرا نتیجہ یہ اخذ کرتے ہیں کہ امت مسلمہ کو چوکس اور بیدار رہ کر منافقوں کی نگرانی کرنی چاہئے۔الہبی جماعتوں میں منافقوں کا وجود تو ساتھ لگا ہوا ہے۔لیکن ان کے شر سے خود کو اور امت سوره توبه آیت ۱۲۶ سورۃ الحدید آیت ۱۵