سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 197
197 سبیل الرشاد جلد دوم روپے آمد ہوگئی اور اگلے مہینے بارہ سور و پیہ خرچ کرنا پڑا یعنی تین گنا زیادہ تو بارہ سوروپے آمد ہوگئی۔پس جتنا خرچ ہوتا ہے اتنا اللہ تعالیٰ دے دیتا ہے۔اس واسطے بجٹ بنانے کی ضرورت نہیں۔چنانچہ میری گھبراہٹ دور ہو گئی۔مگر جس طرح انہیں گھبراہٹ پیدا ہوتی تھی۔مجھے بھی بسا اوقات کم مائیگی کا سوچ کر بڑی پریشانی اٹھانی پڑتی تھی۔ہم لوگ یعنی اس زمانے کے نوجوان حضرت صاحب کی خدمت میں لکھتے تھے۔چنانچہ اس کے متعلق حضرت صاحب نے کئی خطبات پڑھے ہیں۔لیکن اس سال خدام الاحمدیہ کے اجتماع میں جو بجٹ پیش کیا گیا ہے وہ اڑھائی لاکھ روپے کا ہے اور جو آپ کے سامنے بجٹ رکھا جائے گا وہ صرف بہتر ہزار روپے کا ہے۔پس بڑا فرق پیدا ہو گیا ہے اور اس کی یہی وجہ ہے کہ پیچھے سے جو پود آ رہی ہے وہ تعداد کے لحاظ سے بھی زیادہ ہے اور مالی وسعت کے لحاظ سے بھی۔پس اللہ تعالیٰ نے تعداد میں برکت ڈالی اور مال میں برکت ڈالی اور خدام آگے نکل گئے۔میرا خیال ہے کہ ۱۹۴۲ء میں ایسے احمدی نوجوان جو خدام الاحمدیہ کے رکن تھے اور جن کو ہزار دو ہزار روپے تنخواہ ملتی تھی وہ گنتی کے دو ایک ہوں گے۔اب میرا خیال ہے کہ اگر ہزاروں نہیں تو سینکڑوں ایسے نوجوان ہیں جن کی تنخواہ اس وقت ہزار دو ہزار بلکہ اس سے بھی زیادہ ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے مال میں بھی برکت ڈالی جو ہمارے لئے ایک نشان ہے اور ایک تازیانہ بھی ہے آپ کے لئے اور میرے لئے بھی جو عمر میں بڑے ہو گئے ہیں کہ ہم کیوں پیچھے رہیں۔جن کو ہم بچے کہتے ہیں ان کو ہم آگے کیسے نکلنے دیں گے۔کوشش تو یہی ہونی چاہئے۔خواہش بھی یہی ہونی چاہئے۔ویسے نو جوان فی الدنیا آگے نکلیں تو ہمارے لئے خوشی کا باعث ہے ( اور ان کو نکلنا چاہئے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ان پر بڑا فضل ہے اور ہم پر بھی لیکن جب ہمارا یعنی چالیس سال سے بڑی عمر والوں کا ان کے ساتھ مقابلہ ہو تو پھر ہماری خواہش یہی ہونی چاہئے کہ نوجوان بھی ترقی کریں لیکن ہم ان سے زیادہ ترقی کر جائیں۔ہماری خواہش نہیں ہونی چاہئے کہ ان کے اندر کمزوری پیدا ہو جائے۔بلکہ ہمارے دل میں یہ خواہش پیدا ہونی چاہئے کہ وہ جتنی اور زیادہ ترقی کر سکتے ہیں کریں۔خدا تعالیٰ ان کو اور بھی زیادہ ترقی دے۔ہمیں ان سے بھی زیادہ ترقی دے۔بہر حال جب آپ اپنے بجٹ پر غور کریں گے تو اس چیز پر بھی آپ غور کریں اور کوئی ایسی صورت نکالیں کہ آپ ان سے پیچھے نہ رہیں۔آج میں تحریک جدید کے نئے سال کا اعلان نہیں کروں گا اس واسطے کہ ابھی وقت نہیں آیا۔رمضان کی وجہ سے یہ اجتماع پہلے ہو گئے ہیں۔انشاء اللہ اس مہینے کا جو آخری خطبہ ہو گا۔اللہ تعالیٰ نے توفیق دی اور زندگی رکھی تو میں اس وقت تحریک جدید کے نئے سال کا اعلان کر دوں گا۔