سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 194
194 سبیل الرشاد جلد دوم ذمہ داری خدام الاحمدیہ کی تنظیم کی ہے کہ وہ نوجوانوں کی تربیت اور اصلاح کا فریضہ انجام دے۔حضور نے انصار کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا یہ خیال ہرگز درست نہیں ہے۔پہلی اور اصل ذمہ داری تو باپ کی ہے کہ وہ اپنے بیٹے کی تربیت کا ہر طرح خیال رکھے۔اس لئے انصار اللہ کے رکن ہونے کی حیثیت میں بطور باپ اپنے اپنے بیٹوں کی تربیت آپ کی ذمہ داری ہے۔تربیت اولاد کی اہمیت واضح کرتے ہوئے حضور نے مزید فرمایا کہ جولوگ لمبا عرصہ احمدیت میں رہے ہیں اور انہیں براہِ راست تربیت حاصل کرنے کا موقع ملا ہے ، آئندہ نسلوں کی تربیت کرنے کا بوجھ زیادہ تر ان پر ہے چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے بعد کے زمانہ میں اسلام کا جو غلبہ انقلا۔عظیم کی صورت میں ظاہر ہوا اس کی جان وہ صحابہ رضوان اللہ علیہم ہی تھے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے براہ راست تربیت یافتہ تھے۔بعد میں وہ نئی نسلوں کی اس رنگ میں تربیت کرتے چلے گئے کہ نئی نسلیں بھی غلبہ اسلام کے لئے قربانیاں دیتی چلی گئیں۔اس کے ثبوت میں حضور نے جنگ یرموک کے موقع پر صحابہ کرام اور ان کے زیر اثر نئی نسلوں کے تربیت یافتہ نوجوانوں کی قربانیوں اور ان کے سنہری کارناموں کا بہت ہی مسحور کن انداز میں ذکر فرمایا اور انصار اللہ کونئی نسلوں کی تربیت کے ضمن میں ان کی ذمہ داریوں کی طرف بہت پُر اثر انداز میں توجہ دلائی۔حضور کی اِس رُوح پرور اور بصیرت افروز تقریر نے جو قریباً ڈیڑھ گھنٹے تک جاری رہی احباب پر وجد کی کیفیت طاری کر دی اور اس کے دوران انہیں علوم و معارف اور حقائق و دقائق سے اپنی جھولیاں بھرنے کے انمول مواقع میسر آئے۔فالحمد للہ۔روزنامه الفضل ربوه ۲۷ اکتوبر ۱۹۷۰ء)