سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 192 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 192

192 سبیل الرشاد جلد دوم ذکر اللہ تعالیٰ نے سورۃ حم السجدہ کی آیت اس میں فرمایا ہے۔اس موقع پر حضور نے خلافت اور مجد دیت کے باہمی تعلق پر بھی بہت بصیرت افروز پیرائے میں روشنی ڈالی اور واضح فرمایا کہ مجد دخلیفہ نہیں ہوتا وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نیابت کے صرف ایک حصہ میں کام کرتا ہے برخلاف اس کے ہر خلیفہ مجد دبھی ہوتا ہے کیونکہ وہ اپنے وقت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سارے کاموں میں آپ کا نائب ہوتا ہے اور وہ آپ کے افاضۂ روحانیہ کی برکت سے دین کی ساری ضرورتوں کو پورا کرتا ہے۔حضور نے آخر میں واضح فرمایا کہ احباب جماعت کا جن کے کندھوں پر اسلام کو ساری دنیا میں غالب کرنے کی عظیم ذمہ داری ڈالی گئی ہے یہ فرض ہے کہ وہ پختہ اور ہمہ گیرایمان پر ہمیشہ قائم رہیں اور اس درجہ ظاہری اور باطنی پاکیزگی حاصل کریں کہ خدا تعالیٰ انہیں اپنی ہمکلامی اور فوق العادت نشانوں کے ظہور سے ہمیشہ ہی نواز تار ہے۔پھر احباب جماعت کا اور بالخصوص انصار اللہ کا یہ فرض ہے کہ وہ خود ہی ان ہر دو انعاموں کے وارث نہ بنیں بلکہ ان کی آئندہ نسلیں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی اور اتباع کی برکت سے ان انعاموں کی وارث بنتی چلی جائیں یہاں تک کہ اسلام ساری دُنیا میں غالب آ جائے۔حضور نے فرمایا ، سوال یہ نہیں ہے کہ افاضہ محمد کی جاری ہے یا نہیں وہ تو جاری ہے اور جاری رہے گا سوال یہ ہے کہ افاضہ محمد مکی کے ہم بھی وارث ہیں یا نہیں۔ہم میں سے ہر شخص کو ہمیشہ اس کوشش میں لگا رہنا چاہئے کہ وہ اور اس کی نسلیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل پیروی اور اتباع کے نتیجہ میں افاضہ محمد سمی کی وارث بنی رہیں تا خدا تعالیٰ ہمیشہ ہی ہمیں بھی اور ہماری نسلوں کو بھی اپنی ہمکلامی اور فوق العادت نشانوں کے ظہور سے نوازتا رہے۔ہمارا اولین فرض یہ ہے کہ ہم دُنیا اور اس کی رنگینیوں کی طرف جو ان ہر دو عظیم الشان خدائی انعاموں کے بالمقابل ثمن قلیل کی حیثیت رکھتی ہیں کبھی راغب نہ ہوں اور خدا تعالیٰ کے اس قرآنی حکم پر کہ فَلَا تَخْشَوُا النَّاسَ وَاخْشَوْنِ وَلَا تَشْتَرُ وَ بِايْتِي ثَمَنًا قَلِيلًا پختی سے کار بندر ہیں۔اس نہایت درجہ بصیرت افروز خطاب کے شروع میں حضور نے احباب کو ایک نہایت اہم امر کی طرف توجہ دلائی۔حضور نے یہ واضح کرنے کے بعد کہ اللہ تعالیٰ اپنے وعدوں کے مطابق جماعت کو روز افزوں ترقی دیتا چلا آ رہا ہے فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ کا سلوک یہ ہے کہ وہ ہمیں ترقیات پر ترقیات سے نوازتا چلا آ رہا ہے تو پھر ہمارا بھی یہ فرض ہے کہ غلبہ اسلام کے ضمن میں اپنی کوششوں کو ہرلمحہ اور ہر آن تیز سے تیز تر کرتے چلے جائیں۔ہمارا ہر قدم ہمیشہ آگے ہی کی طرف اٹھے نہ کہ پیچھے کی طرف۔ہمیں ہمیشہ یہ سورۃ المائدہ آیت ۴۵