سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 1
سبیل الرشاد جلد دوم 1 سید نا حضرت خلیفہ المسیح الثالث رحم اللہ تعالی کا افتاحی خطاب فرموده ۲۸ را خاء۱۳۴۵ بهش ۲۸ اکتوبر۱۹۶۶ء بمقام احاطه دفاتر مجلس انصاراللہ مرکز بیدر بوہ ربوه ۲۸ / اکتوبر ۱۹۶۶ء۔سیدنا حضرت خلیفۃ المسح الثالث رحمہ اللہ تعالی مجلس انصاراللہ مرکز یہ خلیفۃالمسیح کے گیارہویں سالانہ اجتماع کا افتتاح فرمانے کے لئے ٹھیک تین بجے سہ پہر مقام اجتماع میں تشریف لائے۔تلاوت قرآن کریم کے بعد جو مکرم حافظ مسعود احمد صاحب سرگودھا نے کی۔حضور نے کھڑے ہو کر جملہ انصار سے ان کا عہدد ہروایا۔اس کے بعد فرمایا: آج میں پرانا طریق بدل کر پہلے افتتاحی دعا کرواؤں گا اور بعد میں چند باتیں اپنے دوستوں کے سامنے بیان کروں گا۔انشاء اللہ۔ہمیں خاص طور پر یہ دعا کرنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے اس اجتماع کو بہت ہی بابرکت کرے اور ہم مطمئن قلوب کے ساتھ گھروں کو واپس جائیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَيِنُ الْقُلُوبُ اللہ تعالیٰ کے ذکر کے نتیجہ میں ہی انسانوں کے دل اطمینان حاصل کرتے ہیں۔سو اللہ تعالیٰ ہمیں تو فیق عطا کرے کہ ہم ہمیشہ ہی خصوصاً اجتماع کی گھڑیوں کو اللہ تعالیٰ کے ذکر میں گزار نے والے ہوں اور اس رنگ میں اس کا ذکر کرنے والے ہوں کہ وہ ہم سے خوش اور راضی ہو جائے اور اپنی رضا کی خلعت سے ہمیں نوازے اور اپنی رحمتوں کی چادر ہمارے اوپر ڈالے اور اپنی مغفرت کی چادر میں ہماری تمام کمزوریوں کو چھپالے اور ہم جو نہایت ہی کمزور اور نا تواں ہیں ہمیں خود اپنی طرف سے قوت اور طاقت عطا کرے کہ ہم اس کی توحید کے قیام اور اسلام کی اشاعت میں کامیاب کر دار ادا کر سکیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں سچے مسلمان اور حقیقی احمدی بنائے۔(اس کے بعد حضور نے حاضرین سمیت ایک لمبی اور پرسوز دعا کی ) اس کے بعد حضور نے اپنی تقریر شروع فرمائی۔تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا۔بحیثیت افراد جماعت انصار اللہ کی ذمہ داریاں اس وقت میں چند متفرق باتیں انصار اللہ کے کاموں کے متعلق اپنے دوستوں سے کہنا چاہتا سورة الرعد آیت ۲۹