سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 122
122 سبیل الرشاد جلد دوم اور اپنی مغفرت سے تمہیں ڈھانپ لے گا اور تمہارے گناہ جو ہیں وہ چھپ جائیں گے لیکن اگر تم ایسا نہیں کرو گے فان تَوَلَّوْا تو تمہیں معلوم ہونا چاہئے کہ سب سے اعلیٰ اور ارفع اور احسن اور بہترین نعمت جودی جاسکتی تھی وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وجود ہے۔اگر تم ناشکری کرو گے تو تمہیں یادرکھنا چاہئے کہ "إن الله لا يُحِبُّ الْكَافِرِینَ“ ناشکری کرنے والوں سے اللہ تعالیٰ محبت اور پیار نہیں کیا کرتا۔پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کامل اتباع ضروری ہے کیونکہ یہ انسان کے لئے اللہ تعالیٰ کا محبوب بننے کا ذریعہ ہے۔اس سے بھی بڑھ کر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔قُلْ يُعِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَّحْمَةِ اللَّهِ * ط اِنَّ اللهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ۔اس آیہ کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آپ کے مقام کے لحاظ سے یہ اجازت دی کہ تو میری مخلوق اور میرے بندوں کو اپنا بندہ اور غلام کہ کر پکاراور ان کو آواز دے اور اُن سے یہ کہہ دے کہ اے میرے ( یعنی محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بند و اور غلامو! ) اگر تم نے اپنے نفسوں پر کوئی زیادتی کی ہو۔تم سے گناہ ہوئے ہوں۔تم سے غلطیاں سرزد ہوئی ہوں۔تمہارے کام میں خامیاں رہ گئی ہوں۔کوششوں میں نقائص رہ گئے ہوں یا کمزوریاں واقع ہوگئی ہوں یا روحانی طور پر بغاوت کے خیالات پیدا ہوتے ہوں ، ناپاکی سے کبھی پر ہیز نہ کیا ہو، غرض ہزاروں قسم کے گناہ ہیں کہ جن میں انسان ملوث ہوتا ہے اور جن کے نتیجہ میں انسان پر ناپاکی کا داغ لگ جاتا ہے مگر ہر قسم کا داغ میری غلامی کی وجہ سے دور ہو جائے گا۔لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَّحَمَةِ اللهِ الله تعالیٰ کی رحمت سے مایوس مت ہو کیونکہ جو شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی غلامی کا طوق اپنی گردن میں ڈال لیتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کا وارث بن جاتا ہے۔فرماتے ہیں : حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس آیہ کریمہ کی تفسیر کرتے ہوئے لکھا ہے۔آپ قل یعِبَادِی کے لفظ سے یہ ظاہر کیا کہ دیکھو یہ میرا پیارا رسول۔دیکھو برگزیدہ بندہ کہ کمال طاعت سے کس درجہ تک پہنچا کہ اب جو کچھ میرا ہے وہ اس کا ہے۔جو شخص نجات چاہتا ہے وہ اس کا غلام ہو جائے یعنی ایسا اس کی اطاعت میں محو ہو جائے کہ 0 سورة الزمر آیت ۵۴